علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی آفاقی اور وسیع المشرب قومیت کی سب سے بڑی مثال: پرنب مکھرجی

علی گڑھ ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی( اے ایم یو) کے بانی اور ہندوستان کی نشاۃ ثانیہ کی علامت سرسید احمد خاں کی دوصد سالہ یومِ پیدائش تقریب کے موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی سابق صدر جمہوریۂ ہندپرنب مکھرجی نے کہا کہ سرسید احمد خاں ایک عظیم مفکر اور جدید سائنسی تعلیم کے مبلغ تھے اور انہوں نے اپنی دور بینی سے ہندوستان کے سامراجیت سے دوچار سماجی منظر نامہ کو جدید جمہوری اقدار سے مزین کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

Oct 18, 2017 09:24 AM IST | Updated on: Oct 18, 2017 09:24 AM IST

علی گڑھ ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی( اے ایم یو) کے بانی اور ہندوستان کی نشاۃ ثانیہ کی علامت سرسید احمد خاں کی دوصد سالہ یومِ پیدائش تقریب کے موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی سابق صدر جمہوریۂ ہندپرنب مکھرجی نے کہا کہ سرسید احمد خاں ایک عظیم مفکر اور جدید سائنسی تعلیم کے مبلغ تھے اور انہوں نے اپنی دور بینی سے ہندوستان کے سامراجیت سے دوچار سماجی منظر نامہ کو جدید جمہوری اقدار سے مزین کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ مسٹر مکھرجی کو روایتی طریقہ سے رائڈنگ کلب کے شہ سواروں نے بگھی میں بٹھاکر جائے تقریب ایتھلیٹکس میدان تک پہنچایا۔ مسٹر مکھرجی نے کہا کہ سرسید نے کالجوں کے قیام اور جرائد کی اشاعت کے توسط سے مغربی تعلیم کے اہم عناصر کو سائنسی تعلیم کے تناظر میں فروغ دینے کے لئے عظیم کوشش کی اور تعلیم کے فروغ کوہی اپنا مشن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر میں ہمیں سرسید کے مشن کے بنیادی عناصر پر گہرائی کے ساتھ غور کرکے اعلیٰ معیاری تحقیق، تخلیقی قوتوں اور علم پر مبنی سماج کے قیام کے لئے کام کرنا ہوگا کیونکہ یہی اس ملک کو عظیم ممالک کی صف میں شامل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آفاقی اور وسیع المشرب قومیت کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں مختلف مذاہب، ذاتوں، زبانوں اور علاقوں کے طلبہ ایک ساتھ مل جل کر رہتے ہوئے تعاون اور ہمدردی کی اعلیٰ روایات کے تحت ملک کو آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ سرسید نے تعلیم کے تئیں اپنی تمام زندگی کو وقف کرکے مستقبل کو مزید بہتر بنانے میں اپنا اہم ترین تعاون پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید ایک مسیحا تھے جنہوں نے اپنی دور اندیشی اور اپنی فکر سے اس عظیم ملک میں سائنسی فکر کی روایت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر منصور نے کہا کہ سرسید کثیر المذاہب اور جدیدیت کے حامی تھے اور انہوں نے مختلف سطح پر دقیانوسی فکر کی مخالفت کی۔ ان کی فکر میں علیحدگی پسندی اور نفرت کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی آفاقی اور وسیع المشرب قومیت کی سب سے بڑی مثال: پرنب مکھرجی

پروفیسر منصور نے کہا کہ یہ اے ایم یو کے لئے فخر کا باعث ہے کہ وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے حال ہی میں اے ایم یو کے لئے90کروڑ روپیہ کی مالی گرانٹ منظور کی ہے جس سے مختلف میدانوں میں ترقیاتی منصوبوں کو آسانی کے ساتھ تکمیل تک پہنچایا جا سکے گا۔

پروفیسر منصور نے کہا کہ یہ اے ایم یو کے لئے فخر کا باعث ہے کہ وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے حال ہی میں اے ایم یو کے لئے90کروڑ روپیہ کی مالی گرانٹ منظور کی ہے جس سے مختلف میدانوں میں ترقیاتی منصوبوں کو آسانی کے ساتھ تکمیل تک پہنچایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے اس موڑ پر جب ہم اس عظیم ہستی کی دو صد سالہ یومِ پیدائش تقریب کے شاہد ہیں، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اعلیٰ معیاری تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے کے تئیں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں اور ہم اس ملک کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شعبۂ انگریزی کی پروفیسر سیدہ نزہت زیبا، شعبۂ سیاسیات کے ڈاکٹر محب الحق اور یونیورسٹی کے طالب علم ایم ایم اشرف اور طالبہ یسریٰ خاں نے سرسید کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اس موقع پر امریکہ کے ممتاز دانشور پروفیسر ڈیوڈ لیلی ویلڈ کو عالمی اور جسٹس سہیل اعجاز صدیقی کو قومی سطح کے سرسید کی یاد میں قائم ’’سرسید ایکسیلینس ایوارڈ۔2017‘‘سے سرفراز کیا گیا۔ ڈاکٹر لیلی ویلڈ کی جانب سے پروفیسر ایم شافع قدوائی نے ایوارڈ وصول کیا۔ جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سرسید مطالعات کا سب سے اہم حصہ ان کی فکر کا مطالعہ ہے جس کے تحت انہوں نے تعلیم کے توسط سے ملک کے سیکولو اور کثیر الجہات کردار کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان کی فکر کا زندہ و جاوید نمونہ ہے اور یہاں کے طلبہ کئی دہائیوں سے ملک اور بیرونی ممالک میں اپنی مادرِ علمی ہی نہیں بلکہ اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سائنسی تحقیق کے میدان میں خصوصی حاصلات کے لئے شعبۂ کیمیا کے پروفیسر محمد منیر کو خصوصی انّو ویشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ دو صد سالہ تقریب کے تحت قومی سطح کے مضمون نویسی مقابلہ کے فاتح شرکاء کو یادگاری نشان، توصیفی سند اور نقد انعامات سے سرفراز کیا گیا جس کے تحت چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی پٹنہ کے طالب علم راج وردھن تیواری کواول انعام جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم کیف صدیقی کو دوئم اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رائے پور کی طالبہ انوشا پلّے کو سوئم انعام کے لئے منتخب کیا گیاتھا۔

واضح ہوکہ اول، دوئم اور سوئم انعام کے لئے بالترتیب25ہزار،15ہزار اور10ہزار روپیہ اور توصیفی اسناد پیش کی گئیں۔ اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سرسید دو صد سالہ تقریب کے تحت سرسید کی حیات و خدمات پر مبنی ایک خصوصی کافی ٹیبل بک شائع کی ہے جس کا اجراء مہمانِ خصوصی مسٹرپرنب مکھرجی نے کیا۔ صبح بعد نمازِ فجر یونیورسٹی کی جامع مسجد میں قرآن خوانی کے بعد وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے سرسید کے مزار پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ واضح ہوکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سرسید کی یاد میں آج متعدد پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جن میں سرسید اکادمی اور مولانا آزاد لائبریری کے زیرِ اہتمام منعقدہ سرسید سے وابستہ اشیاء اور کتب وغیرہ کی نمائش کے ساتھ سرسید پر ڈاک ٹکٹ اور کتابوں کا اجراء شامل ہے۔ حکومتِ ہند کے ڈاک محکمہ کے علی گڑھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ مسٹر جے ایس دیسوال سمیت وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے

ڈاک ٹکٹ کا اجراء کیا۔ اس کے علاوہ وائس چانسلر نے پروفیسر سعود عالم قاسمی، ڈاکٹر رضیہ حامد، پروفیسر اصغر عباس، پروفیسر ایس ایم عزیز الدین حسین، مسٹر عبید الرحمن صدیقی، ڈاکٹر راحت ابرار، ڈاکٹر محمدمختار عالم، ڈاکٹر محمد ظفر منہاج اور ڈاکٹر جسیم محمد کی کل11کتب کا اجراء کیا۔

واضح ہوکہ ان میں سرسید کے شذرات پر مبنی پروفیسر اصغر عباس کی ادارت میں شائع کتاب شذرات سرسید بھی شامل ہے جس کی اشاعت دارالمصنفین اعظم گڑھ نے کی ہے۔ پروفیسر اشتیاق احمد ظلّی نے اس موقع پر وائس چانسلر سے کتاب کا نسخہ حاصل کیا۔  پروگرام کے آخر میں ڈین اسٹوڈینٹس ویلفیئر پروفیسر جمشید صدیقی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عظیم تقریب کے انعقاد میں تعاون پیش کرنے والوں کا خصوصی طور پرشکریہ ادا کیا جبکہ ڈاکٹر شارق عقیل اور ڈاکٹر فائزہ عباسی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز