صدارتی انتخابات : ملک کے اعلی ترین آئینی عہدہ کیلئے ووٹنگ کل ، ’رام‘اور ’میرا‘ آمنے سامنے

Jul 16, 2017 10:03 PM IST | Updated on: Jul 16, 2017 10:03 PM IST

نئی دہلی: ملک کے اعلی ترین آئینی عہدہ کیلئے پیر کو ہونے والے الیکشن کی تمام تیاریوں مکمل ہوچکی ہیں جس میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے امیدوار رام ناتھ کووند اور اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار کے مابین راست مقابلہ ہے۔ صدارتی الیکشن کے الیکٹورل کالج میں اگر مختلف پارٹیوں کی صورتحال دیکھی جائے تو اپوزیشن کی ’میرا‘ پر این ڈی اے امیدوار ’رام‘ (ناتھ) کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے۔

مسٹر کووند کو حکمراں این ڈی اے کے ساتھ ساتھ جنتا دل یو، بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، انا ڈی ایم کے، تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) سمیت کئی چھوٹی پارٹیوں کی بھی حمایت ملتی نظر آ رہی ہے، جبکہ محترمہ کمار کے حق میں کانگریس کے علاوہ 16 دیگر پارٹیوں کی حمایت ہے۔؎ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے غیرمتوقع فیصلے میں دلت برادری کے لیڈر اور بہار کے سابق گورنر رام ناتھ کووند کے نام کا اعلان کیا تو اپوزیشن نے بھی اسی برادری کا امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا اور محترمہ کمار کے نام پر رضامندی ہوئی۔

صدارتی انتخابات : ملک کے اعلی ترین آئینی عہدہ کیلئے ووٹنگ کل ، ’رام‘اور ’میرا‘ آمنے سامنے

مسٹر کووند کو امیدوار بنا کر مسٹر مودی نے اپوزیشن میں بھی پھوٹ ڈال دی۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت کی قیادت کر رہے جنتا دل یو نے مسٹر کووند کو حمایت دینےکا فیصلہ کیا۔ صدارتی الیکشن کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے علاوہ تمام ریاستوں کی قانون ساز کونسلوں میں ووٹنگ صبح 10 بجے سے شام پانچ بجے تک ہوگی۔ پارلیمنٹ کے کمرہ نمبر 62 میں ووٹنگ ہوگی۔ ریاستوں میں بھی الیکشن کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کے بیلٹ پیپر سبز رنگ اور ممبران اسمبلی اور قانون ساز کونسلروں کے بیلٹ پیپر گلابی رنگ کے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو دوپہر سے قبل 11 بجے شروع ہوگی۔ صدر پرنب مکھرجی کی معیادکار 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ نومنتخب صدر 25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

صدارتی الیکشن ’الیکٹورل کالج‘ کے ذریعہ کیا جاتا ہے، جس میں ملک کے ممبرپارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ صدارتی الیکشن میں کُل ووٹ کے 48 فیصد ووٹ این ڈی اے کے پاس ہیں جن میں سے 40 فیصد ووٹ صرف بی جے پی کے ہیں۔ دوسری طرف انا ڈی ایم کے کے پانچ فیصد، بی جے ڈی کے تین فیصد، ٹی آر ایس کے دو فیصد، جنتا دل یو کے دو فیصد سےکم اور وائی ایس آر کانگریس اور انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی) دونوں کو ملا کر دو فیصد ووٹ ہیں۔ ان تمام کو ملا کر 14 فیصد ووٹ ہیں۔ ان پارٹیوں نے بھی این ڈی اے امیدوار کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسی صورت میں مسٹر کووند کے حق میں 62 فیصد سے زیادہ ووٹ ہیں، جبکہ کانگریس اور اس کے ساتھیوں کے پاس محض 34 فیصد ووٹ ہیں۔

صدارتی الیکشن میں کُل 10،98،903 ووٹ ہیں۔ ان ووٹوں میں 5،49،408 ممبران پارلیمنٹ کے اور 5،49،495 ممبران اسمبلی کے ووٹ ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے لئے کسی بھی امیدوار کو نصف ووٹ زیادہ ملنا چاہئے۔ اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کے پاس 4،42،117، کانگریس کے پاس 1،61،478، ترنمول کانگریس 63،847، تلگودیشم پارٹی کے 31،116، شیوسینا کے 25، 893، سماج وادی پارٹی کے 26،060، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے 27،069 ووٹ ، بہوجن سماج پارٹی کے 8،200 ، جنتا دل یو کے 20،935 اور راشٹریہ جنتا دل کے 18،796 ووٹ ہیں۔ دراوڑ منتر كژگم کے پاس 18 ہزار 352 ووٹ، جبکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پاس 15 ہزار 857 ووٹ ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز