صدارتی امیدواروں کو صرف ذات پات کے چشمے سے دیکھنا افسوسناک : میراکمار

Jul 14, 2017 08:52 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 08:52 PM IST

لکھنؤ: صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کی امیدوارمیرا کمارنےدونوں امیدواروں کی قابلیت کی بجائے ذات پات کی شناخت بن جانے کو افسوسناک قراردیتے ہوئے آج کہا کہ وہ اسی نظریے کو ختم کرنے کے لئے ہی الیکشن لڑ رہی ہیں۔ محترمہ کمار نے یہاں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ صدر کا الیکشن لڑرہے دونوں امیدوار دلت ہیں۔ دونوں کی شناخت قابلیت کے بجائے ذات بن گئی ہے اور یہی سوچ معاشرے اور ملک کو پیچھے لےجائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی میں دونوں امیدواروں کو ذات پات کے چشمے سے دیکھا جا رہا ہے. تکنیکی اور جدیدیت کے اس دور میں ذات کے بجائے قابلیت کو ترجیح دی جانی چاہئے لیکن سب کو ساتھ لے کر چلنے کی نظریات پر سخت حملہ کیا جا رہا ہے۔ منوادی نظریہ کو دوبارہ مسلط کیا جا رہا ہے. اس نظریے کی وجہ سے دلت خود کو ہراساں محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات فرد کا نہیں نظریے کا ہے۔ وہ نظریہ کی لڑائی لڑرہی ہیں۔ انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ اس تاریخی لمحے میں روح کی آواز سنیں، آنے والی نسلوں کے مفادات کو ترجیح دیتےہوئے اپنی حمایت دیں۔

صدارتی امیدواروں کو صرف ذات پات کے چشمے سے دیکھنا افسوسناک : میراکمار

انہوں نے کہا کہ اتر پردیش سے ان کا پرانا رشتہ ہے۔ انہوں نے اپنی عوامی زندگی کا آغاز بجنور پارلیمانی حلقہ سے الیکشن لڑ کر کیا تھا۔ کانپور میں ان کا نانیہال ہے۔ امیدوار بنائے جانے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد نظریات کے لئے ہے۔ اسے جمہوریت کی خوبصورتی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اقتدار پالیسیوں اور اصولوں سے ہٹ کر کام کر رہی ہے۔

محترمہ کمار نے کہا کہ ملک میں متعدد مذاہب ہیں۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ مل کر رہتے ہیں۔ ذات پات کا نظام ہے۔ اس نظام میں ایک بڑے طبقے نے بہت تکلیف برداشت کیا ہے۔ انہیں حاشیے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایس پی، بی ایس پی، راشٹریہ لوک دل اور کانگریس کے تمام ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے ہوئی ہے۔ ملائم سنگھ یادو سے بھی انہوں نے رابطہ کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز