بابری مسجد کیس : پروفیسراخترالواسع نے وسیم رضوی کی شدید تنقید کی ،ان جیسےافراد سےکسی سنجیدہ گفتگو کی توقع نہیں

مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپورکے وائس چانسلر اور معروف دانشور پدم ایوارڈ یافتہ پروفیسراخترالواسع نے ملک کےحالات پرتبصرہ کرتے ہوئےسخت ردِعمل کا اظہارکیا ہے۔

Nov 16, 2017 11:16 PM IST | Updated on: Nov 16, 2017 11:16 PM IST

علی گڑھ : مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپورکے وائس چانسلر اور معروف دانشور پدم ایوارڈ یافتہ پروفیسراخترالواسع نے ملک کےحالات پرتبصرہ کرتے ہوئےسخت ردِعمل کا اظہارکیا ہے۔ جہاں انہوں نےبابری مسجد معاملہ میں وسیم رضوی کےبیانات کی مذمت کی وہیں یوگی آدتیہ ناتھ کے تبصرہ کو بھی ذاتی قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوں نےالورسانحہ کے لئے مرکزی اور راجستھانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

پروفیسر اخترالواسع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ای ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے یوپی کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کےذریعہ گذشتہ روز دیئے گئے بیان کہ ’’ہندوتو اورملک کی ترقی ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں ‘‘ پر کہا کہ ان کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے ، لیکن ہندوستان کی جمہوریت میں جو وحدت اور اجماع ہے ، وہ سیکولرازم کے دھاگہ کی وجہ سے ہے اور یہ دھاگہ یوگی جی کا دیا ہوا نہیں ہے بلکہ ہمارے صوفیوں اور سنتوں کی جو قدیم روایت رہی ہے ، انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

بابری مسجد کیس : پروفیسراخترالواسع نے وسیم رضوی کی شدید تنقید کی ،ان جیسےافراد سےکسی سنجیدہ گفتگو کی توقع نہیں

عمرخاں کے قتل پرافسوس کا اظہارکرتےہوئے پروفیسر اخترالواسع نےکہا کہ جوکچھ ہوا، وہ سراسر ظلم وبربریت ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ وزیراعظم مودی نےاس طرح رونما ہونےوالے واقعات پرسخت بیانات تو دیئے ، لیکن پولیس اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہےاورمقامی پولیس وانتظامیہ پوری طرح سےناکام ثابت ہوئی ہے ۔ اس طرح کے واقعات ملک کی سالمیت ،اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےلئےانتہائی نقصان دہ ہیں۔

راجستھان کی ریاستی حکومت ہو یا مرکزی حکومت زبانی جمع خرچ سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ اس طرح کے جوشرپسند عناصر ہیں،جو ملک کے اتحاد کو پارا پارا کرنےمیں لگے ہوئے ہیں اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کے خلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے۔

Loading...

بابری مسجد تنازع میں وسیم رضوی کے ذریعہ کی جا رہی بیان بازی پر سخت تنقید کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی جیسےافراد سےکسی سنجیدہ گفتگو کی توقع نہیں کی جا سکتی، وہ تو اس فارمولے پر عمل پیرا ہیں کہ’’ تم بھی چلو اس طرف جدھر کی ہوا چلے ‘‘ ۔ یہ پہلے سابقہ حکومت کے وفاداران میں صفِ اول میں تھے اور اب انھوں نے اپنا رخ بدل کر موجودہ حکومت کی آواز کے ساتھ آواز ملانا شروع کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ایسے دوکاندار ہیں جیسا گراہک دیکھتے ہیں، ویسا ہی مال پھینکتے ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز