ایران پر حملہ ، شیعہ سنی اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش : پروفیسر اختر الواسع

Jun 08, 2017 07:09 PM IST | Updated on: Jun 08, 2017 07:09 PM IST

نئی دہلی : مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور کے صدر پروفیسر اخترالواسع نے ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج کہا کہ پارلیمنٹ پر حملہ اسلام کے جمہوری مزاج پر حملہ ہے اور امام خمینی کے مزار پر حملہ اسلام کی انقلابی روح کو منہدم کرنے کی کوشش ہے۔

آج یہاں یو این آئی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ یہ حملہ دراصل شیعہ سنی اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ داعش والے جو اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں وہ بنیادی طور پر نہ تو سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ بلکہ وہ نئے عہد کے خوارج ہیں اور موجودہ حالات میں اتحاد و اتفاق سے کام لیتے ہوئے ایسی تمام طاقتوں کا پوری سختی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایران پر حملہ ، شیعہ سنی اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش : پروفیسر اختر الواسع

انہوں نے مزید کہا کہ جب داعش یا اسلامی ریاست کے انتہاپسند مغربی ممالک پر حملہ کرتے ہیں اور غیر مسلم معاشرہ کو نشانہ بناتے ہیں تو وہ یہ حرکت ان سے دشمنی اور عناد کے نتیجے میں نہیں کرتے بلکہ ان ملکوں میں مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کرناچاہتے ہیں اور اسلام کے فروغ کے امکانات کو مسدود کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے یہ لوگ دنیا کے بھی دشمن ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے بھی دشمن ہیں۔

کشمیری انتہاپسند ذاکر موسی کے ہندوستانی مسلمانوں کے متعلق بیان کے سلسلے میں پروفیسر اخترا لواسع کا کہنا تھا کہ ’اگر اس عالمی گاوں میں اسلام کا کوئی عملی اور موثر ماڈل ہے تو و ہ ہندوستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہندوستان میں ایک ہزار سال سے مذہبی، لسانی، تہذیبی ، ثقافتی ، تکثریت والے معاشرے میں رہا اور اس ملک میں مسلمانوں نے آٹھ سو سالوں تک بحیثیت حاکم ، دو سو سال تک بحیثیت محکوم اور عصر جدید میں اقتدار میں برابر کے شریک کے طور پر آگے بڑھتے رہے ہیں اور ہمیں خداا ور خود پر پور ی طرح بھروسہ ہے اور ہماری طاقت ہندوستان کا سکولر مزاج اور ہمارا دستور ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز