ہندو اقلیتوں کے سوال پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنا صرف ایک سیاسی شعبدہ : پروفیسر طاہر محمود

Nov 05, 2017 11:44 AM IST | Updated on: Nov 05, 2017 11:44 AM IST

نئی دہلی : معروف ماہر قانون اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسرطاہرمحمود نے ایک بی جے پی لیڈر کی طرف سے ملک کی ہندو اقلیتوں کے مسئلے کو سپریم کورٹ میں لے جانے کو’’ ایک قطعاً غیر ضروری سیاسی شعبدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ حکومت کے اپنے اختیار میں ہے اور اس کے لئے عدلیہ سے رجوع کرنا بالکل بے معنی ہے جس کا مقصد صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ ملکی آئین یا کسی پارلیمانی قانون میں مذہبی اقلیتوں کی کوئی تصریح نہیں کی گئی ہے اور قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ1992 ان کی صراحت کا غیر مشروط اختیا ر مرکزی حکومت کو دیتا ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس حکومت نے اس وقت ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے پانچ مذہبی فرقوں کو اقلیّت قرار دیا تھا اور پھرجینیوں کے مسلسل اصرار پر 2014میں انھیں بھی اقلیتی درجہ دیا تھا، موجودہ حکومت اپنے اختیار سے جب چاہے اس نوٹیفکیشن میں ترمیم یا اضافے کر سکتی ہے اس کیلئے عدالت میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ جن ریاستوں میں اقلیتی کمیشن قائم ہیں وہاں ان کے قوانین کے تحت بھی مقامی سرکاروں کو یہ اختیار حاصل ہے۔

ہندو اقلیتوں کے سوال پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنا صرف ایک سیاسی شعبدہ : پروفیسر طاہر محمود

پروفیسر طاہر محمود نے مزید بتایا کہ1998 میں قومی اقلیتی کمیشن کے صدر کی حیثیت سے انھوں نے خود ’’ملک کی ہندو اقلیتیں‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کی تھی جس میں ناگالینڈ،میزورم،میگھالیہ، پنجاب، جمّوں کشمیراور لکشدیپ میں ہندؤں کو اقلیت کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی تھی لیکن اس وقت بی جے پی لیڈروں نے اس پر سخت تنقید کی تھی اور بی جے پی کی مرکزی سرکار نے اس پر چپّی سادھ لی تھی ، موجودہ حکومت چاہے تو اب اس کی بنیاد پر ضروری اقدام کر سکتی ہے ، اس میں عدالت کی مداخلت قطعی ضروری نہیں ہے ۔

ہندو اقلیت والی ریاستوں میں اروناچل پردیش اور منی پور کو شامل کئے جانے کو غلط بتاتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ان ریاستوں میں سبھی فرقوں کی آبادی پچاس فیصد سے کم ہے مگر تعداد کے لحاظ سے ان میں ہندوو پھر بھی سب سے آگے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز