پروفیسر طارق منصور نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کا چارج لیا

May 17, 2017 11:29 AM IST | Updated on: May 17, 2017 11:29 AM IST

علی گڑھ ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل اور معروف سرجن پروفیسر طارق منصور جنہیں حال ہی میں صدر جمہوریۂ ہند نے اے ایم یو کے وزیٹر کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر مقرر کیا تھا، نے کل لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) سے وائس چانسلر کے عہدے کا چارج لے لیا۔وائس چانسلر کی حیثیت سے ان کے عہدے کی مدت آئندہ پانچ سال تک ہوگی۔ حال ہی میں وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کے ڈپٹی سکریٹری مسٹر سور ت سنگھ کے دستخط سے جاری ایک مکتوب میں صدر جمہوریۂ ہند کے ذریعہ پروفیسر منصور کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے تقرری کی اطلاع دی گئی تھی۔  پروفیسر منصور نے وائس چانسلر کے عہدے کا چارج لینے سے قبل سرسید کے مزار پر گلہائے عقیدت پیش کئے اور چارج لینے کے بعد سرسید ہال (نارتھ) اور موریسن کورٹ کے طلبأ سے تبادلۂ خیال کیا۔

             پروفیسر طارق منصور20؍ستمبر1956کوعلی گڑھ کے ایک معزز، تعلیم یافتہ اور با وقار خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اسی یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے1978 میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اور 1982 میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔1994میں انہوں نے انٹر نیشل کالج آف سرجنس سے ایف آئی سی ایس کا کورس مکمل کیا۔  پروفیسر طارق منصور کے والد مرحوم پروفیسر حفیظ الرحمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لاء فیکلٹی کے ڈین رہ چکے تھے اور ان کے بڑے بھائی پروفیسر رشید الظفر آئی آئی ٹی دہلی میں سول انجینئرنگ کے پروفیسر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سول انجینئرنگ شعبہ کے سربراہ اور1992سے1994تک جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے وائس چانسلر رہ چکے تھے۔  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی35سالہ عملی زندگی میں وہ متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔2013میں انہوں نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل اور سی ایم ایس کا عہدہ سنبھالا اور چند ہی سال میں انہوں نے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔انہوں نے1983میں جنرل سرجری شعبہ میں کلینیکل رجسٹرار کی حیثیت سے جوائن کیا اور ایم بی بی ایس کلاس کے لئے تدریسی فرائض بھی انجام دئے۔

پروفیسر طارق منصور نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کا چارج لیا

            پروفیسر منصور کے 90سے زائد تحقیقی مقالات قومی و عالمی سطح کے جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ وہ80سے زائد قومی و عالمی کانفرنسوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے49پوسٹ گریجویٹ تھیسس کی نگرانی کی ہے اور وہ کئی اہم اعزازات سے سرفراز ہوچکے ہیں۔  پروفیسرمنصور یکم جنوری2002سے پروفیسر کی حیثیت سے سرجری شعبہ سے وابستہ رہے اور 2006 سے2009 تک اس کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انہیں ایسو سی ایشن آف سرجنس آف انڈیا( یو پی چیپٹر) کے ذریعہ2013میں ایمیننٹ سینئر سرجیکل ٹیچر ایوارڈ سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔ 2013میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پروفیسر منصور نے کالج اور اس سے ملحق ہسپتال کی صورتِ حال کو سدھارنے میں اہم رول ادا کیا۔ کالج میں صفائی ستھرائی کے علاوہ مریضوں کی دیکھ بھال پر خصوصی طور پر زور دیا گیا جس کے نتیجہ میں2015-16کی انڈیا ٹوڈے رینکنگ میں کالج کو اتر پردیش میں دوسرے سب سے اچھے میڈیکل کالج کا درجہ دیا گیا۔

amu2

            واضح ہوکہ حال ہی میں انڈیا ٹوڈے کی2017کی رینکنگ میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کو دوسرے سب سے اچھے میڈیکل کالج کا درجہ دیا گیا ہے جس کا سہرا پروفیسر طارق منصور کے سر جاتا ہے۔ پروفیسر طارق منصور کی باوقار قیادت میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج نے پولیو کے تدارک میں اہم رول ادا کیا۔ اس کے علاوہ نیوٹریشنل ٹریننگ اور نومولود بچوں کو لائف سپورٹ ٹریننگ، ایچ آئی وی اور اور ہیمو فیلیا سے متعلق نیشنل ہیلتھ مشن، یونیسیف اور این اے سی او کے ذریعہ چلائی گئی تحریکوں میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا اہم تعاون رہا۔  پروفیسر منصور کی قیادت میں جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں ایک کیتھ لیب کا قیام عمل میں آیا جہاں اینجیو گرافی اور اینجیو پلاسٹی کی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت پیڈیاٹرک کارڈیولوجی اور کاڈیئک سرجری کے لئے کالج کو15کروڑ کی گرانٹ مہیاہوئی جبکہ بچوں کے ارلی انٹروینشن سینٹر کے لئے زائد8کروڑ کی گرانٹ حاصل ہوئی۔پروفیسر منصور کے دور میں میڈیکل کالج میں کئی بین الاقوامی سطح کی مشینیں بھی قائم کی گئیں جن سے مریضوں کو دہلی جیسی سہولیات علی گڑھ میں دستیاب ہیں۔ان کے ہی دور میں اعلیٰ معیاری آڈیٹوریم تعمیر ہوا۔ ایک وائرولوجی لیب بھی قائم کی گئی۔ ان کی قیادت میںجواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں کئی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلیمی و تربیتی معاہدات کئے گئے جن میں میساچیوسٹس میڈیکل اسکول یو ایس اے اور کوئن ایلزابیتھ ہسپتال برمنگھم یو کے شامل ہیں۔

                    پروفیسر منصور کی کھیلوں میں بھی خاص دلچسپی رہی ہے اور وہ مختلف کلبوں کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے1996-97اور2007سے2014تک ٹینس کلب کے صدر اور جولائی2007سے جولائی 2014 تک یونیورسٹی گیمس کمیٹی کے سکریٹری کی حیثیت سے خصوصی خدمات انجام دی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز