ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلیمی وثقافتی تعلقات بڑھانے کے لئے عملی اقدامات لازمی

Dec 29, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Dec 29, 2017 09:20 PM IST

نئی دہلی : سعودی کلچرل اتاشی کے زیر اہتمام ایک لیکچر جس کا موضوع:ہندوستان کے ساتھ ثقافتی تعلقات میں سعودی عرب کا کردار منعقد ہوا۔ پروگرام کی شروعات تلاوت قرآن مجید سے ہوئی، تلاوت مبارکہ کے بعدکلچرل اتاشی جناب ڈاکٹر عبداللہ صالح الشتوی نے امسال 2017  میں کلچرل اتاشی ودیگر سعودی اداروں و یونیورسٹیوں کے تعاون سے ہوئے سبھی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ برقرار رہنا چاہئے۔ انہوں نے حاضرین سے گزارش کی کہ مزید پروجیکٹ اور کانفرنس کے لئے اپنی رائے ظاہر کریں ، جس سے یہ تعلقات مزید مستحکم ہو جائیں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے مزید تفصیل ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کچھ ایسے جوانب ہوں آپ لوگوں کے ذہن میں جہاں ہم سے چوک ہوگئی ہو، ہم ہمیشہ بہتری کی طرف جانا چاہتے ہیں، ہم ایک بہت عمدہ قسم کی ڈیجیٹل لائبریری قیام کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیںجس سے اساتذہ وریسرچ اسکالرس مستفید ہونگے نیز ایک آنلائن رسالہ جاری ہوگا ۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہء مغربی ایشیا اسٹڈیز کے استاذڈاکٹر ہمایوں نظمی نے حالیہ ہند وسعودی تعلقات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات شاہ سعود کے زمانے سے چلے آرہے ہیں اور مختلف وقتوں میں سعودی عرب کے بادشاہ ودیگر حکمرانوں نے ہندوستان کا دورہ کیا جس سے ثقافتی وتعلیمی تعلقات ہی نہیں بلکہ تجارتی تعلقات بھی بڑھے، اور بہت سے ثقافتی وتعلیمی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے لیکن افسوس رہا کہ سب کاغذ ہی تک رہ گیا۔ڈاکٹر نظمی نے کہا کہ 2006 میں شاہ عبداللہ نے ہندوستان کا دورہ کیا ، جس سے تعلقات میں مزید استحکام آیا تھااور ہندوستان نے انہیں یوم جمہوریہ کے موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر بلایا ۔ اس کے بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی اپریل 2010 میں دورہ کیا جس میں بہت سے سعودی اداروں کے ساتھ معاہدے طے ہوئے، لیکن کاغذ ہی تک محدود رہ گئے۔ شاہ سلمان نے اس وقت ایک عربوں میں مشہور مقولہ کہا کہ ہندوستان تمہارا ہے ، اور اس کے ساتھ معاہدے کرنے میں کبھی نقصان نہیں ہوگا۔

ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلیمی وثقافتی تعلقات بڑھانے کے لئے عملی اقدامات لازمی

سیمینارمیں صدر شعبہء عربی پروفیسر حبیب اللہ خان نے مشورہ دیا کہ منظم طور سے ورکشاپ کا قیام بہت کارآمد ہوگا جس میں سعودی جامعات سے اساتذہ یہاں آکر طلبہ کو ٹریننگ دیں ، جس سے طلبہ کے ساتھ ہمارے اساتذہ کو بھی استفادہ حاصل ہوگا نیز سعودی اساتذہ کو بھی ہندوستان کی تعلیم وثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا عربی ادب کا نصاب تعلیم سعودی شعراء وادباء سے محروم ہے، اور اس محرومی کو دور کرنے کے لئے کلچرل اتاشی کے تعاون کی سخت ضرورت ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہء عربی پروفیسر نعمان خان نے کچھ اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر بڑے پیمانے پر سیمینار ہونا چاہئے تا کہ مزید تفصیلات کے ساتھ گفتگو اور بحث کرنے کا موقع ملے تاہم اس کے لئے تیار ہیں، لائبریری کے قیام کے لئے زور دیتے ہوئے پروفیسر نعمان نے کہا کہ ہندوستان میں ایسی لائبریریوں کی شدید ضرورت ہے جہاں ہمارے طلبہ واسکالرس قدیم وحدیث عربی زبان وادب کے ذخیرے سے فائدہ حاصل کر سکیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز