مسلمانوں کے بہت سارے مسائل کا حل دلت۔ مسلم اتحاد میں پوشیدہ: جسٹس سہیل صدیقی

Feb 05, 2017 04:58 PM IST | Updated on: Feb 05, 2017 04:59 PM IST

نئی دہلی۔ دلت ۔ مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوئے سابق جسٹس اور نیشنل کمیشن فور مانیٹری ایجوکیشن آف انڈیا کے سابق چیرمین سہیل اعجاز صدیقی نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان دلتوں کے ساتھ مل کر اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں فیڈریشن فور سوشل جسٹس کے تحت یہاں ’اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی ترقی تعلیم کے ذریعہ ‘کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمان پسماندگی کا شکارہیں ،اسی طرح دلت بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔ مسلمانوں کے بہت سارے مسائل کا حل دلتوں کے ساتھ اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دلتوں کے پاس جانا چاہئے اور ان کا اعتماد حاصل کرنا چاہئے۔ انہوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے معاملات میں دلتوں کو انصاف نہیں مل پاتا اور طاقتور لوگ اپنے پیسے اور حیثیت کے دم پر مقدمہ جیت جاتے ہیں۔ انہوں نے یکساں سول کوڈ کو مسلمانوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس قدر منتشر ہیں کہ اب ان کی شناخت فسادات میں مارے جانے کے بعد کی جاتی ہے کہ اس میں اتنے مسلمان مارے گئے ورنہ اس سے پہلے وہ اپنی ذات اور مسلک سے پہچانے جاتے ہیں۔

انہوں نے مسلمانوں کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بجٹ میں دلتوں کے لئے 52ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں لیکن اقلیتوں کے لئے صرف 3900کروڑ روپے دئے گئے ہیں ان میں سے بھی مسلما نوں کے حصے میں بہ مشکل ایک ہزار کروڑ روپے آئیں گے ۔دلت 52ہزار کروڑ کو کم کہہ رہے ہیں جب کہ مسلمان خاموش ہیں۔ مسلمانوں کو لو پروفائل میں رہ کر کام کرانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کامیابی ضرور ملتی ہے۔ انہوں نے اپنی مثال پیش کرتے ہو ئے کہا کہ انہوں نے خاموشی سے سیکڑوں اقلیتی اداروں کو اقلیتی کردار کا درجہ دلایا اور اس سلسلے میں کبھی اخبار میں بیان جاری نہیں کیا۔ انہوں نے آنجہانی ارجن سنگھ کو مسلمانوں کا سچا ہمدرد قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ جوہمدردی مسلمانوں سے ان کو تھی، وہ ہمدردی کسی مسلم وزیر میں نہیں۔ اے ایم یو الومنائی دوبئی کے صدرفیڈریشن فور جسٹس کے اہم عہدہ دار سید محمد قطب الرحمان نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسائل صرف مسلمان کہنے سے حل نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پسماندگی کے شکار تمام لوگوں کے لئے بلا امتیاز کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ اسی طبقہ کو پریشانی جھیلنی پڑی ہے ۔ برسوں بعد بھی وہ حاشیے پر کھڑے ہیں۔ دلت مسلم اتحاد کو سمجھیں۔ اسی میں آپ کے مسائل کا حل موجود ہے۔ یہ صورت حال اب تک کیوں ہے، اسی پر غور و خوض کے لے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد کوئی سیاسی نہیں اور نہ ہی کسی خاص پارٹی کے لئے ہے بلکہ ہم اس امتیاز اور بھید بھاؤ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیںً، خواہ اس کی زد میں کوئی بھی آئے۔

مسلمانوں کے بہت سارے مسائل کا حل دلت۔ مسلم اتحاد میں پوشیدہ: جسٹس سہیل صدیقی

الفلاح یونیورسٹی کے چانسلر جواد صدیقی نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دلت مسلم۔ اتحاد کی کوششیں ماضی میں بھی کی گئی ہیں لیکن ناکام رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ہوا کہ ہم نے ایک دوسرے کی کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا اور نہ ہی اس کو دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس میں دونوں کا احترام ہوتا ہے اور کچھ شرطیں ہوتی ہیں جن کا دونوں کو احترام کرنا چاہئے۔ پروفیسر نفیس احمد چیرمین نورالعلوم سوسائٹی نے کہا کہ وہی ملک ترقی کرتا ہے جس میں حکومت کی برکات سب تک پہنچیں۔ اگر کوئی طبقہ ترقی سے محروم رہتاہے تو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز