میثاق مدینہ مذہبی آہنگی اور مذہبی رواداری کی بہترین مثال: پروفیسر اختر الواسع

Jan 29, 2017 06:43 PM IST | Updated on: Jan 29, 2017 06:43 PM IST

نئی دہلی۔ میثاق مدینہ کومذہبی آہنگی اور مذہبی رواداری کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹیڈیز کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ اس میں تمام لوگوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل تھا۔ یہ بات انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹییز  کی طرف سے برٹش کونسل کے تعاون سے منعقدہ ’’بین مذاہب : بقائے باہم اور رواداری ‘‘ پروگرام کی صدارت کرتے ہو ئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ تمام مذاہب کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کے ماننے والے اس پر ایمان بھی لاتے ہیں اور وہ کسی مذہب کو مسترد نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بقائے باہم اور بین المذاہب احترام پر کتنا یقین تھا اس کا اندازہ حلف الفضول کے قیام سے لگایا جاسکتا ہے جس کا مقصد مذہب، قبیلے اور حسب و نسب سے اوپر اٹھ کر کمزور طبقات کو ظلم سے بچانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اسلام کی اہم بات یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی چیز کسی پر تھوپتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا مقصد پیغام رسانی ہے اور کون کس عقیدے کو قبول کرتا ہے یہ اس شخص پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ بہت دنوںسے  اس موضوع پر کام کر رہا ہے۔ یہاں کا شعبہ اسلامک اسٹڈیز اس سلسلے میں گاہے بگاہے کام کرتا رہا ہے۔ مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ ہمیں اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے میڈیا کا سہارا لینا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہوگا کہ میڈیا میں سارے لوگ خراب ہیں۔ میڈیا میں اگر اچھے لوگ نہ ہوتے تو گجرات فسادات کا سچ کبھی سامنے نہیں آتا۔

میثاق مدینہ مذہبی آہنگی اور مذہبی رواداری کی بہترین مثال: پروفیسر اختر الواسع

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے استاذ، انٹر فیتھ کو ایکز سٹنس ٹالرینس‘ کے پروجیکٹ ڈائرکٹر پروفیسر جنید حارث نے پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مذاہب انسانیت کامنبع ہیں۔ کوئی مذہب نفرت اور تفرقہ کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ تمام مذاہب انسانیت کی تعمیر پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد مذہبی لوگوں نے اپنے مفاد کے لئے مذہب کا غلط استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے مذہب کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں منفی خیالات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام کے بارے میں بتایا کہ اس کا مقصد جہاں بین المذاہب فاصلے کو کم کرنا ہے وہیں تکثیری سماج میں اپنے اپنے مذاہب پر عمل پیرا رہتے ہوئے کس طرح بہترین سماج کی تشکیل کرسکتے ہیں اس پر بھی غور و خوض کرنا ہے اور اس کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برٹش ہائی کمیشن پوری دنیا میں امن عالم کے لئے اس طرح کا پروگرام چلا رہا ہے اور ہندوستان میں یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فادر اے بی تھامس نے بین المذاہب احترام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تمام مذاہب کا نچوڑ پرامن معاشرہ کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی خاص مذہب کی بات نہ کرکے خالص طور پر مذہبی رواداری کی بات کریں۔ انہوں نے مذہبی آہنگی اور رواداری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب ماضی کی بات نہیں ہے بلکہ مستقبل سنوارنے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کو سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں سے پہنچا ہے جنہوں نے مذہب کو تجارت کی شکل دے دی ہے اورا پنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے سماج کو بانٹے ہیں۔

ذاکر حسین اسلامک اسٹڈیز کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد اسحق نے کہا کہ مذہب انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور مذہب کا کام معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنا ہے۔ اگر مذہب یہ کام نہیں کرتا ہے ایسے مذہب کی ضرورت کون محسوس کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ اس لئے ہورہا ہے کیوں کہ ہم نے قرآن کو نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف مسلمانوں کے حوالے سے نہیں کہی گئی ہے بلکہ تمام انسانوں کو مخاطب کیاگیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ ماس کمیونکیشن کے ڈائرکٹر پروفیسر افتخار احمد نے کہا کہ مذہبی رواداری اور بین المذاہب احترام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے میڈیا کا سہارا لینا چاہئے کیوں کہ میڈیا ایک طاقت ور ٹول ہے۔ انہوں نے تاریخ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہمیشہ طاقت ور لوگوں کے ہاتھوں میں رہا ہے اور جس کا ساتھ دیتا ہے اسی کے حق میں نتائج آتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔ اسلامک اسٹڈیز کے اساتذہ میں پروفیسر فریدہ خانم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد تجاروی، اسسٹنٹ پروفیسر نجم السحر، مسٹر حبیب، مسٹر شکیل اور دیگر اہم لوگ موجود تھے۔ یہ افتتاحی پروگرام تھا۔ یہ ورکشاپ دو دن تک جاری رہے گا جس میں اسلامک اسٹیڈیز اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی تربیت کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز