بابری مسجد - رام مندر تنازع : وسیم رضوی کی نئی تجویز ، ایودھیا میں بنے رام مندر اور لکھنو میں امن مسجد

Nov 20, 2017 05:11 PM IST | Updated on: Nov 20, 2017 07:47 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے اجودھیا میں متنازع بابری مسجد رام جنم بھومی پر اپنے دعوی سے دستبردار ہوئے ہوے بابری مسجد کی جگہ پرکسی مسجد کے بجائے لکھنؤ میں مسجد امن تعمیر کرانے سے متعلق اپنی تجویز پیش کی ہے۔ دوسری طرف آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے سکریٹری ظفر یاب جیلانی نے اس تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے صدر نریندر گری اور بورڈ کے چےئرمین وسیم رضوی نے آج یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ جانکاری دی۔ مسٹر رضوی نے بتایا کہ گذشتہ اٹھارہ نومبر کو انہوں نے سپریم کورٹ میں تجویز پیش کی ہے۔

پانچ نکاتی تجویز میں شیعہ وقف بورڈ نے اجودھیا میں متنازع مقام پر اپنے دعوی سے دستبردار ہوتے ہوئے وہاں رام کا عظیم الشان مندر بنانے کی درخواست کی ہے۔شیعہ وقف بورڈ کے ذریعہ سپریم کورٹ میں پیش کردہ تجویز میں رام مندر جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر نرتیہ گوپال داس، ٹرسٹ کے رکن اور سابق چےئرمین پرم ہنس رام چندر داس کے جانشین دگمبر اکھاڑہ کے مہنت سریش داس، سابق ممبر پارلیمنٹ اور ٹرسٹ کے رکن رام ولاس ویدانتی ، فریق مہنت دھرم داس ارو اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کے بھی دستخط ہیں۔

بابری مسجد - رام مندر تنازع : وسیم رضوی کی نئی تجویز ، ایودھیا میں بنے رام مندر اور لکھنو میں امن مسجد

تجویز میں کہا گیا ہے کہ ہندوسماج کا کہنا ہے کہ ا جودھیا میں واقع بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تھا۔ وہ ان کی عقیدت کا مرکز ہے اس کا احترام کرتے ہوئے اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ متنازع مقام سے تنازع کو ختم کرنے کے لئے قوم کے مفاد میں اپنے حق سے پوری طرح دستبردار ہونے کے لئے تیار ہے۔ معاہدہ کے طور پر تیار مسودہ میں کہا گیا ہے کہ ہندو سماج کو اختیار ہوگا کہ متناز ع جگہ پر اپنی عقیدت کے مطابق عظیم الشان مندر کی تعمیر کریں ۔ اس میں شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کوکوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تجویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اجودھیا میں واقع بابری مسجد کا وجود اب ختم ہوچکا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز