چوٹیاں کاٹنے کے واقعات: سیکورٹی فورسز کا احتجاجی خواتین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال

Oct 09, 2017 07:41 PM IST | Updated on: Oct 09, 2017 07:41 PM IST

سری نگر۔ سیکورٹی فورسز نے پیر کے روز جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بتہ مالو علاقہ میں چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف احتجاج کررہی خواتین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بتہ مالو کے فردوس آباد میں اتوار کے روز چوٹی کاٹنے کا تازہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ اور وادی میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے ایسے درجنوں واقعات کے خلاف بتہ مالو کے اندرونی علاقوں میں رہائش پذیر درجنوں خواتین نے پیر کے روز ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ جس کی شرکاء ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ تاہم جب احتجاجی خواتین کا جلوس بتہ مالو مین چوک کے نزدیک پہنچا تو سیکورٹی فورسز نے حرکت میں آکر اسے منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق بھاگم بھاگ میں متعدد خواتین سڑک پر گرنے سے زخمی ہوگئیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں اتوار کے روز خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے دو تازہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ واقعات گاندربل کے ربہ تار اور نارائن باغ میں پیش آئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر بالخصوص جنوبی اور وسطی کشمیر میں خواتین کی پراسرار طور پر چوٹیاں کاٹنے کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ ان واقعات سے وادی بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ریاست بھر میں چوٹی کاٹنے کے کم از کم 100 واقعات سامنے آنے کے بعد بھی مضبوط انٹیلی جنس نیٹورک کے لئے مشہور جموں وکشمیر پولیس ان میں ملوث افراد کا پتہ لگانے میں تاحال ناکام رہی ہے۔ ریاستی پولیس نے چوٹی کاٹنے کے واقعات میں ملوث لوگوں کے بارے میں مصدقہ اطلاع فراہم کرنے والے شخص کو 6 لاکھ روپے بطور انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ چوٹی کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وادی کے مختلف اضلاع میں لوگوں کی مدد کے لئے ہیلپ لائنیں بھی شروع کی گئی ہیں۔ بیشتر واقعات میں خواتین کے بال بیہوشی کی حالت میں کاٹے گئے۔ دوسری جانب جموں خطہ کے مختلف حصوں میں خواتین کو بیہوش کرکے پراسرار طریقے سے ان کے بال کاٹنے کے اب تک کم از کم پانچ درجن واقعات سامنے آئے ہیں۔

چوٹیاں کاٹنے کے واقعات: سیکورٹی فورسز کا احتجاجی خواتین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال

بعض اطلاعات کے مطابق بھاگم بھاگ میں متعدد خواتین سڑک پر گرنے سے زخمی ہوگئیں۔

ان واقعات سے جہاں خواتین میں خوف وہراس کی لہر دوڑی ہوئی ہے، وہیں پولیس اور فارنسک سائنس لیبارٹری اب تک اس معمے کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ چوٹی کاٹنے کا پہلا واقعہ رواں برس جون کے مہینے میں راجستھان میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد ایسے واقعات ہریانہ، ہماچل پردیش ، مغربی اترپردیش اور دوسری ریاستوں سے بھی سامنے آنے لگے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز