کشمیر میں طالب علم کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال، سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں ، ریل خدمات معطل

Jun 09, 2017 01:25 PM IST | Updated on: Jun 09, 2017 01:25 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں جمعہ کے روز جنوبی ضلع شوپیان کے 19 سالہ نوجوان عادل فاروق ماگرے کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ ہڑتال کی کال علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی۔ انتظامیہ نے شوپیان کے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے 7 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں جبکہ باقی سبھی دیگر ضلعی ہیڈکوارٹروں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ احتیاطی اقدامات کے طور پر تمام تعلیمی اداروں کو بند جبکہ ریل خدمات کو معطل رکھا گیا ہے۔تیز رفتار والی فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو گذشتہ تین دنوں سے معطل رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ضلع شوپیان کے گنہ پورہ میں 6 جون کی شام کو 19 سالہ عادل فاروق اس وقت جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے گاؤں میں شروع کردہ جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے والے لوگوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے تھے۔ عادل احمد گورنمنٹ ڈگری کالج شوپیان میں گریجویشن سال اول کا طالب علم تھا۔ انتظامیہ نے ہلاکت کے اس واقعہ کی پہلے ہی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں۔ عادل کی ہلاکت کے خلاف جہاں 7 جون کو جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں ہڑتال کی گئی تھی، وہیں ضلع شوپیان میں جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال کی گئی تھی۔ گذشتہ دو دنوں میں ہڑتال کے دوران قریب ڈیڑھ درجن مقامات پر پتھراؤ کے واقعات پیش آئے تھے۔

کشمیر میں طالب علم کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال، سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں ، ریل خدمات معطل

file photo

سرکاری ذرائع کے مطابق وادی میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے ضلع سری نگر کے سات پولیس تھانوں بشمول پائین شہر کے خانیار، نوہٹہ، صفاکدل، ایم آر گنج، رعناواری اور سیول لائنز کے مائسمہ میں آج سیکورٹی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ضلعی ہیڈکوارٹروں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ 19 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف سری نگر کے پابندی والے علاقوں میں کسی بھی طرح کے احتجاجوں کو روکنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ تمام سڑکوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔ نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے الزام لگایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ اس تاریخی مسجد کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔

ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کا گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بھی خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ مائسمہ میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کو تاریخی لال چوک سے جوڑنے والے امیرا کدل برج کو بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ ضلع شوپیان میں بھی نوجوان عادل فاروق کی ہلاکت کے خلاف کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ ضلع میں امن وامان کی فضا برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ مختلف دیہات کو ضلع ہیڈکوارٹر سے جوڑنے والی سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز