کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال ، انتظامیہ کی طرف سے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ

Jun 17, 2017 01:22 PM IST | Updated on: Jun 17, 2017 01:22 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں جمعرات کی شام سے لیکر جمعہ کی شام تک تین عام شہریوں اور تین جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ حصوں کے علاوہ جنوبی کشمیر کے کچھ قصبوں بشمول کولگام، پلوامہ اور پانپور میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ سری نگر کے مضافاتی علاقہ رنگریٹ میں جمعرات کی شام کو سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی موت اور جنوبی ضلع اننت ناگ کے آرونی میں جمعہ کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے مسلح تصادم جس کے دوران دو عام شہری اور تین جنگجو ہلاک ہوئے، وادی میں ایک نئی کشیدگی کا سبب بن گئے ہیں۔

وادی میں جمعہ کو قریب ایک درجن مقامات پر ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں قریب تین درجن افراد زخمی ہوگئے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ضلع اننت ناگ کے آرونی اور سری نگر کے رنگریٹ علاقہ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تین عام کشمیری نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کرنے، دوکانوں کی توڑ پھوڑ اور شہروگام میں فوج کی مبینہ قہر سامانیوں کے خلاف آج کشمیر بند کی کال دی تھی۔ علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر ہفتہ کو وادی میں مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ کشمیر یونیورسٹی نے آج لئے جانے والے امتحانات کی معطلی کا پیشگی اعلان کیا تھا۔ انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ حصوں کے علاوہ جنوبی کشمیر کے کچھ قصبوں بشمول کولگام، پلوامہ اور پانپور میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔

کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال ، انتظامیہ کی طرف سے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے پائین شہر میں پانچ پولیس تھانوں ایم آر گنج، نوہٹہ، خانیار ، رعناواری اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم انتظامیہ کے اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ سیکورٹی فورسز نے بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا ہے جبکہ لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا ہے۔

سری نگر کے جن علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، ان میں امن وامان کی برقراری کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔ نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ تاہم عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والے روڑ کو بیماروں و تیمارداروں اور ایمبولینس گاڑیوں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا ہے۔ راجوری کدل پر تعینات سیکورٹی فورسز نے فوٹو جرنلسٹس کے ایک گروپ کو بتایا ’ہمیں کسی بھی شخص کو سڑک پر چلنے نہ دینے کی ہدایات ملی ہیں‘۔ خانیار سے پائین شہر کی طرف جانے والے روڑ کو بھی خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔

پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ اس میں مصلیوں کے داخلے کو روکنے کے لئے اس کا باب الداخلہ مقفل کردیاگیا ہے۔ ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ مائسمہ میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسزکی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین کو جمعہ کے روز گرفتار کرکے سینٹرل جیل سری نگر منتقل کردیا گیا۔ مائسمہ کے ساتھ ساتھ گاؤ کدل، مدینہ چوک اور حاجی مسجد علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ تاہم نذدیکی تاریخی لال چوک اور بڈشاہ چوک میں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز