طلبا لیڈر کی گرفتاری سے بی ایچ یو میں بھڑکا تشدد ، اسکول بس میں لگائی آگ

کاشی ہندو یونیورسٹی(بی ایچ یو) کے ایک طلبا لیڈر کی آج گرفتاری سے مشتعل طلبا نے یہاں جم کر توڑ پھوڑ کی۔پرتشدد واقعات کے بعد کشیدگی کے پیش نظر یہاں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔

Dec 20, 2017 11:28 PM IST | Updated on: Dec 20, 2017 11:28 PM IST

وارانسی: کاشی ہندو یونیورسٹی(بی ایچ یو) کے ایک طلبا لیڈر کی آج گرفتاری سے مشتعل طلبا نے یہاں جم کر توڑ پھوڑ کی۔پرتشدد واقعات کے بعد کشیدگی کے پیش نظر یہاں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ بی ایچ یو کے ذرائع نے بتایا کہ شرپسند عناصر نے لنکا علاقہ میں یونیورسٹی کے مین گیٹ پر پتھراؤ کرکے سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچایا اور کمپلکس میں گھوم گھوم کر بڑی تعداد میں گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی ایچ یو کے پروفیسر شری پرکاش شکل کی کار سمیت تقریباََ چھ چار پہیہ گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور ایک پرائیویٹ اسکول کی بس کے شیشے توڑ دےئے اور آگ لگا دی۔

یونیورسٹی کی چیف پراکیوٹر پروفیسر روئنا سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کئی گروپوں کے تقریباََ 120شرپسند عناصر نے جگہ جگہ پرتشدد واقعات کو انجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں امتحانات ہونے کی وجہ سے وہاں کئی سیکورٹی اہلکار تعینات تھے۔ اس درمیان بی ایچ یو کمپلکس کے مختلف دروازوں سے بڑی تعداد میں شرپسند عناصر زبردستی داخل ہوگئے اور پرتشدد واقعات کو انجام دیا۔

طلبا لیڈر کی گرفتاری سے بی ایچ یو میں بھڑکا تشدد ، اسکول بس میں لگائی آگ

انہوں نے بتایا کہ پرتشدد واقعات کے دوران یونیورسٹی میں کئی سیکورٹی اہلکاروں کو چوٹیں آئی ہیں۔پروفیسر سنگھ نے بتایا کہ پورے معاملے کی جانچ کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (سٹی) دنیش سنگھ نے یو این آئی کو بتایا کہ یونیورسٹی کمپلکس میں کشیدگی کے پیش نظر لنکا علاقہ میں مین گیٹ کے باہر کئی تھانوں کی پولیس اور پی اے سی کی ایک کمپنی کے ساتھ ساتھ اعلی حکام موجود ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز