Live Results Assembly Elections 2018

بابری مسجد انہدام کی 26 ویں برسی: ملی وسماجی تنظیموں کا احتجاج، گنہگاروں کوسزا دینے اوربابری مسجد کی دوبارہ تعمیرکا پرزورمطالبہ

دہلی کے جنترمنترسمیت مختلف شہروں میں بابری مسجد کی 26 ویں برسی پر'یوم سیاہ' منایا گیا۔ اس موقع پرایس ڈی پی آئی کے ذریعہ 'پھربنے گی بابری مسجد، پھربنے گا ہندوستان' کا نعرہ دیا۔

Dec 06, 2018 06:45 PM IST | Updated on: Dec 06, 2018 06:59 PM IST

دارالحکومت دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پرآج بابری مسجد کے گنہگاروں کوسزا دینے اور بابری مسجد کی دوبارہ تعمیرکے لئے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ اس موقع پربابری مسجد منہدم کئے جانے کی سازش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے منڈی ہاوس سے جنترمنترتک پرامن مارچ نکال کرجنترمنترپرجمع ہوئے۔

وہیں دوسری  جانب یونائیٹیڈ ہندو فرنٹ کی جانب سے 'وجے دیوس' منایا گیا۔ واضح رہے کہ 6 دسمبر1992 کوبابری مسجد شہید کردی گئی تھی۔ اس طرح سے بابری مسجد انہدام کے 26 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس لئے مختلف ملی وسماجی تنظیموں کی جانب سے "یوم سیاہ" منانے کےلئے جنترمنترپراحتجاج کیا گیا۔

Loading...

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے منڈی ہاوس سے جنترمنترتک مارچ کیا۔ اس کے علاوہ سی پی آئی، جماعت اسلامی ہند، پاپولرفرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، لوک راج سنگٹھن، جن سمان پارٹی، ویلفیئرپارٹی، مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا، وویمن اندیا موومنٹ وغیرہ نے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی۔ اس موقع پربطورخاص برندا کرات، سیتارام یچوری، ڈی راجا،  ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ڈاکٹرتسلیم رحمانی، نوید حامد، ایس راگھون، یاسمین فاروقی وغیرہ پیش پیش رہیں۔

مذکورہ لیڈران اورسماجی کارکنان نے حکومت کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت ملک میں نفرت کوفروغ دینے کا کام کررہی ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لئے طرح طرح کے ہتکھنڈے اپناکرہندو- مسلم کے درمیان نفرت پھیلانے کا کام کررہی ہے۔ تاہم اس ملک میں نفرت کی سیاست بہت زیادہ دنوں تک نہیں چلنے والی ہے بلکہ اس ملک کا آئین اورقانون ہے، اسی کے مطابق سب کوآگے بڑھنا چاہئے۔

بابری مسجد انہدام کے 26 سال گزرجانے کے بعد بھی تنازعہ حل نہیں ہوا ہے اورنہ ہی اس معاملے میں اب تک کسی کو سزا ملی ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں کوئی بل لانے کی کوشش کرے گی یا پھرسپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظارکیا جائے گا۔ بہرحال اس پرحکومت کوئی فیصلہ کرے اورسپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ بھی آئے، لیکن ابھی تک 26 سال گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کا زخم تازہ ہے کیونکہ بابری مسجد شہید  کرنے والوں کوسزا نہیں ملے گی اوربابری مسجد کو اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بابری مسجد کی شہادت کو26 سال مکمل، امت مسلمہ کے زخم آج بھی تازہ کیونکہ اب تک نہیں مل سکا ہے انصاف

یہ بھی پڑھیں:   بابری مسجد شہادت کی برسی: یوپی میں ہائی الرٹ، ایودھیا میں بھاری پولیس فورس تعینات

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز