اس کشمیری خاتون نے ڈیری فارمنگ شروع کر کے دیگر خواتین کے لئے پیش کی منفرد مثال

ضلع پلوامہ کے یاڈر گاؤں سے تعلق رکھنے والی لالی جان نے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد سرکاری نوکریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنا خود کا کاروبار شروع کیا ہے۔

Aug 01, 2018 01:04 PM IST | Updated on: Aug 01, 2018 01:04 PM IST

دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی اب اپنے لیے بہتر روزگار کے مواقع تلاش کررہی ہیں ۔ ایسی ہی ایک مثال ضلع پلوامہ کے ایک دیہات سے تعلق رکھنے والی خاتون نے پیش کی ہے۔ اس خاتون نے باقی خواتین کے ساتھ مل کر سیلف ہیلپ گروپ بناکر ڈیری فارمنگ اور دیگر نجی سطح کے کام شروع کیے ہیں ۔

لالی جان نامی یہ خاتون گھرکے روزمرہ کے کام میں مصروف نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے ڈیری فارم کا کام کررہی ہے۔ ضلع پلوامہ کے یاڈر گاؤں سے تعلق رکھنے والی لالی جان نے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد سرکاری نوکریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنا خود کا کاروبار شروع کیا ہے ۔ امید اسکیم کے تحت اس نے گاؤں کی دیگر خواتین کے ساتھ مل کر سیلف ہیلپ گروپ بنایا اور پھر ڈیری فارم شروع کیا ۔ لالی جان سیلف ہیلپ گروپ کی باقی خواتین کے ہمراہ اپنے فارم کے علاوہ باقی علاقے کا بھی دودھ جمع کرکے بیجتی ہیں ۔ گُذشتہ کچھ برسوں سے شروع کیے گیے اس کاروبار سے ان خواتین کو کافی فائدہ مل ہورہا ہے ۔

اس کشمیری خاتون نے ڈیری فارمنگ شروع کر کے دیگر خواتین کے لئے پیش کی منفرد مثال

لالی جان سیلف ہیلپ گروپ کی باقی خواتین کے ہمراہ اپنے فارم کے علاوہ باقی علاقے کا بھی دودھ جمع کرکے بیجتی ہیں ۔

امید اسکیم کے تحت قائم کیے گیے اس سیلف ہیلپ گروپ کے ذریعہ ان خواتین نے سبزی بنانے کے علاوہ سوزنی کا کام بھی شروع کیا ہے ۔ ڈیری فارمنگ کے ساتھ ساتھ یہ شال بافی میں سوزنی کا کام بھی کرتی ہیں ۔ ان کے اس سیلف ہیلپ گروپ میں تقریبا بارہ خواتین کام کر رہی ہیں ۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اپنے لیے بہتر روزگار تلاش کیا ہے ۔ تاہم اس گروپ سے جُڑی خواتین کی مانگ ہے کہ انہیں علاقے میں دستکاری کے تحت سنٹر قائم کرنے میں مدد فراہم ہو تاکہ یہ دوسروں کو بھی اس صنعت کی تربیت فراہم کر سکیں۔

ضلع پلوامہ کو دودھ کی پیداوارمیں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ خواتین کے اس صنعت کی طرف راغب ہونے سے یہ مزید فروغ پا رہی ہے ۔ یاڈر گاؤں کی لالی جان ضلع پلوامہ میں اپنی نوعیت کی پہلی ایسی خاتون ہے جس نے ڈیری فارم قائم کیا ہے ۔ آج تک ضلع میں خواتین گھریلو سطح پر ہی مویشیوں کو پالتی تھیں ۔ تاہم لالی جان کی اس پہل سے دیگر خواتین بھی اب ڈیری فارمنگ شروع کرنے کی پہل کررہی ہیں ۔ پلوامہ میں جانوروں اور مویشی پالن کے محکمہ سے ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی 21 خواتین نے ڈیری فارمنگ کے لیے رجوع کیا ہے ۔ لیکن بینک کی جانب سے فائنانس نہ ملنے سے سبھی خواتین کے مطالبات زیر التوا ہیں ۔

pulwama

وادی کشمیر میں بڑھتی بے روزگاری مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے بھی بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے ۔ جہاں مرد اپنے لیے خود روزگار کمانے کے لیے نجی سطح پر یونٹ قائم کرتے ہیں۔ وہیں ضلع پلوامہ میں خواتین کے اس میدان میں آگے آنے سے یہ دوسروں کے لیے ایک بہتر مثال پیش کر رہی ہیں۔

پلوامہ سے بلال خان کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز