دارالعلوم دیوبند نے عظیم سپوت کھودیا ، مولانا ریاست علی بجنوری کے انتقال پر قاری عثمان منصور پوری اور مولانا محمود مدنی کا اظہا رتعزیت

May 20, 2017 05:51 PM IST | Updated on: May 20, 2017 05:52 PM IST

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دارالعلوم کے موقر استاذ حدیث اور جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا ریاست علی ظفر بجنوری کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔وہ 77سال کے تھے اور پچھلے 45 سالوں سے دارالعلوم دیوبند میں علم حدیث وفقہ کی تعلیم وتعلم سے وابستہ تھے ۔

صدر جمعیۃ علماء ہند نے اپنے بیان میں کہا کہ دارالعلوم دیوبند نے اپنا ایک عظیم سپوت کھودیا ہے ، جنھوں نے مسلک دیوبند اور اس کے فکر کی بحسن وخوبی ترجمانی کی۔مولانا منصورپوری نے کہا کہ وہ بیک وقت ذی استعداد عالم ، مقبول استاذ، ماہر منتظم اور صاحب طرز ادیب تھے ۔ وہ اعلی درجے کے معاملہ فہم اور صائب الرائے انسان تھے ۔ان کے سانحہ ارتحال سے علمی و دینی حلقے میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے ، حضرت والا جمعیۃ اور دارالعلوم دونوں میں کلیدی حیثیت کے حامل تھے او رمشکلات میں پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے ان کی جانب رجوع کیا جاتا تھا۔مولانا مرحوم فراغت کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے دفتر الجمعیۃ بکڈپو کے مینیجررہے اور سال 2008ء میں جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر منتخب ہوئے ، جس پر تادم حیات فائز رہے ۔

دارالعلوم دیوبند نے عظیم سپوت کھودیا ، مولانا ریاست علی بجنوری کے انتقال پر قاری عثمان منصور پوری اور مولانا محمود مدنی کا اظہا رتعزیت

آپ9مارچ1940ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے ، جب کہ آبائی وطن حبیب والا ضلع بجنور تھا۔1958ء میں دارالعلوم میں اول پوزیشن سے فراغت حاصل کی۔1972ء میں دارالعلوم دیوبند کے استاذ مقرر ہوئے ۔ مولانا منصورپوری اور مولانا مدنی نے حضرت والا کے لواحقین خاص طور سے ان کے تینوں صاحبزادگان سے اظہار تعزیت کیا ہے ۔ مولانا منصورپوری اور مولانا مدنی نے تمام جماعتی احباب، ذمہ داران مدارس ، متعلقین واحبا ب کو تلقین کی ہے کہ حضرت والا کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا خصوصی اہتمام کریں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز