سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دے کر ضلع انتظامیہ نے راہل گاندھی کو شبیر پور گاوں جانے سے روکا

May 27, 2017 02:53 PM IST | Updated on: May 27, 2017 07:01 PM IST

سہارنپور۔ ذات پات کےتشدد سے متاثر اترپردیش کےسہارنپور ضلع کے شبیرپور گاؤں میں تنازعہ کے پیش نظر سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو آج گاؤں جانے سے روک دیا۔ مسٹر گاندھی نے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ببلو کمار سے پوچھا،’’مجھے کس قانون کے تحت روکا گیا۔آپ مجھے یہ کہیں کہ ہم آپ کو بارڈر پر روک روہے ہیں۔ مجھے بتائیے کہ کس قانون کے تحت روک رہے ہیں۔‘‘ مسٹر گاندھی کے قافلے کو جمنا کا پل پار کرتے ہی سرساوا علاقے میں روک لیا گیا۔ وہ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور ریاستی صدر راج ببر کے ساتھ دہلی سے صبح ہریانہ ہوتے ہوئے سہارنپور کے متاثرہ گاؤں شبیر پور جانا چاہتے تھے۔ روکے جانے پر مسٹر گاندھی پاس کے ہی ایک ڈھابے پر بیٹھ گئے اور مقامی لوگوں سے باتیں کرنے لگے۔

کانگریس کے نائب صدر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ سہارنپور اسپتال میں داخل زخمیوں سے ملنے کے بعد شبیر پور میں متاثرین سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اترپردیش میں گھسنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا تھاکہ 23مئی کو بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)کی صدر کی گاؤں سے واپسی کے بعد ہوئے جھگڑے کے پیش نظر اب وہاں سیاست دانوں کے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے تاکہ جلد از جلد صورت حال معمول پر آسکے۔مسٹر گاندھی کے دورے کے پیش نظر انتظامیہ محتاط تھا۔ ہریانہ کے انبالہ شہر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے تال میل کرکے ہی ضلع انتظامیہ کام کررہی تھی۔

سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دے کر ضلع انتظامیہ نے راہل گاندھی کو شبیر پور گاوں جانے سے روکا

ڈیویژنل کمشنر ایم پی اگروال نے یواین آئی سے کہا کہ نقض امن کے اندیشے کی وجہ سے مسٹر گاندھی کوبڈگاؤں علاقے کے تنازعہ سے متاثر ہ شبیرپور گاؤں جانے سے روکا گیا۔محترمہ مایاوتی کے دورے کے بعد پھیلے تشدد کی وجہ سے انتظامیہ نے طے کیا ہےکہ شبیر پور جانے کی اجازت لیڈران کو نہیں دی جائے گی۔ محترمہ مایاوتی کے علاوہ کانگریس کے پی ایل پنیا،کماری شیلجا اور راج ببر سہارنپور کا دورہ کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ذات پا ت کے جھگڑے کی وجہ سے شبیر پور گاؤں میں گزشتہ 23 مئی کو بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کی صدر مایاوتی کے جانے کے بعد وہاں تیسری بار تشدد بھڑک اٹھا تھا۔اس سے پہلے پانچ اور نو مئی کو بھی تنازعہ ہوا تھا ۔ تینوں دن کے تشدد میں دو افرا د کی موت ہوگئی تھی اور کئی گھروں کو آگ کے حوالے کردیاگیا تھا۔ تشدد میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے گزشتہ 20اپریل کو سہارنپور میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز