کشمیر میں بی جے پی - پی ڈی پی موقع پرست اتحاد کی قیمت ادا کررہی ہے ہندوستانی فوج : راہل گاندھی

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگایا کہ مودی حکومت کی کشمیر کے سلسلے میں کوئی پالیسی نہیں ہے اور اس کا خمیازہ فوجیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

Feb 13, 2018 09:04 PM IST | Updated on: Feb 13, 2018 09:04 PM IST

نئی دہلی: کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگایا کہ مودی حکومت کی کشمیر کے سلسلے میں کوئی پالیسی نہیں ہے اور اس کا خمیازہ فوجیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مسٹر گاندھی نے مسلسل ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں فوجیوں کے شہید ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے جوانوں کو جموں کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی موقع پرست سیاست کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

کانگریس کے صدر نے ٹویٹ کرکے کشمیر کے سلسلے میں حکومت اور پی ڈی پی کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا ’’پی ڈی پی کہتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہئے جبکہ ملک کی وزیر دفاع کہتی ہیں ’’پاکستان کو قیمت ادا کرنی پڑے گی‘‘۔ مودی جی تذبذب میں ہیں جبکہ ہمارے فوجی حکومت کی کشمیر پر کوئی پالیسی نہ ہونے اور ریاست میں بی جے پی پی ڈی پی کے موقع پرست اتحاد کے لئے خون بہا رہے ہیں‘‘۔

کشمیر میں بی جے پی - پی ڈی پی موقع پرست اتحاد کی قیمت ادا کررہی ہے ہندوستانی فوج : راہل گاندھی

راہل گاندھی ۔ فائل فوٹو

بعد میں کانگریس کے سینئر ترجمان منیش تیواری نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ پاکستان کے سلسلے میں حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو کچلنے کے لئے ٹھوس کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔مسٹر تیواری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی پی ڈی پی حکومت کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے پاکستان سے بات چیت کی پیش کش کی ہے۔ انہوں نے اسے سنگین معاملہ قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ پی ڈی پی رہنما کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں۔

کانگریسی رہنما نے الزام لگایا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی حکومت کے 44 ماہ کے عرصے میں سرحد پار سے ا سپانسر دہشت گردی کے 206بڑے واقعات ہوئے ہیں۔ گزشتہ 44 دنوں میں جنگ بندی کے 160 بڑے واقعات ہوئے ہیں، جب کہ مودی حکومت کے 45 مہینے کے دوران، جنگ بندی کے 2474 واقعات ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات بڑی تشویش کا موضوع ہیں ۔ مودی حکومت نے پاکستان اور کشمیر کے بارے میں اب تک کسی پالیسی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 45 ماہ کے دوران حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں بنائی ہے۔ اسے یہ بتانا چاہئے کہ دہشت گردی روکنے کے لئے کوئی پالیسی موجود ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر وہ عوام کو کیوں نہیں بتا ہے ہیں؟پاکستانی حکومت کے حافظ سعید کو ایک دہشت گرد قرار دینے کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ صرف فریب ہے ۔ اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے لیپاپوتی کرتی رہی ہے اور اس نے کبھی بھی دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز