راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پربلائی گئی دانشوروں کی میٹنگ پرمسلم رہنماوں نےاٹھائےسوال

کانگریس صدر راہل گاندھی نے آج مسلم دانشوروں کے ساتھ مسلم مسائل پر بات کرنے کے لئے میٹنگ طلب کی ہے، لیکن اس پر مسلم رہنماوں نے جو مسلمانوں کی آواز اٹھاتے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا ہے۔

Jul 11, 2018 05:41 PM IST | Updated on: Jul 11, 2018 08:23 PM IST

نئی دہلی: 2019 لوک سبھا انتخابات کی آہٹ کے ساتھ ہی انتخابی تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایک طرف لیڈران مختلف ریاستوں کا دورہ کرکے اپنی تنظیم کومتحرک کرنے اور پارٹی لیڈران وکارکنان کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف تمام طبقات کے لیڈران کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ان سے ملاقات کرنے کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اسی ضمن میں کانگریس صدر راہل گاندھی نے آج مسلم دانشوروں کے ساتھ  ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج تقریباً 25-20 مسلم رہنماوں کو مدعو کیا ہے، لیکن اس میٹنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شامل ہونے والے ناموں کی فہرست کو پوری طرح سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ کانگریس کی اس ملاقات پرمسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم سمجھی جانے والی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر کے ذریعہ سب سے پہلے تنقید کی گئی ہے۔

راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پربلائی گئی دانشوروں کی میٹنگ پرمسلم رہنماوں نےاٹھائےسوال

سونیا گاندھی اور راہل گاندھی: فائل فوٹو۔

Loading...

مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ میٹنگ کہیں بھی اور کسی سے بھی ہوسکتی ہے، لیکن اگر مسلم مسائل پر بات چیت کرنے کے لئے مسلم دانشوروں کی میٹنگ طلب کی گئی ہے اور اس میں اسلام کے خلاف بات کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا گیا تو یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ جو مسلمانوں کے مسائل جانتے ہیں اور ان کی بات کرتے ہیں، مسلم مسائل پربات کرنے کے لئے انہیں  بلایا جانا چاہئے۔

مجلس مشاورت کے صدرنوید حامد نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے "مزے کی بات ہے کہ جاوید اختر جواسلام میں یقین نہ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پربات چیت کرنے کےلئے مسلم دانشوروں کی بلائی گئی میٹنگ میں شامل ہیں"۔

دوسری جانب سابق ممبرپارلیمنٹ محمد ادیب نے نیوز 18 اردو سے ٹیلیفونک بات چیت میں کہا کہ یہ اچھی کوشش ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان لوگوں سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ کیا جن لوگوں کو بلایا گیا ہے، وہ لوگ مسلمانوں کی آواز ہیں یا آواز اٹھاتے ہیں؟ محمد ادیب نے یہ بھی کہا کہ جو نام سامنے آرہے ہیں، اس میں کئی لوگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مخالف ہیں، جبکہ بورڈ مسلمانوں کی آواز ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ کانگریس صدرراہل گاندھی کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے بارے میں جانکاری ہونی چاہئے۔

واضح رہے راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پر بات کرنے کے لئے بلائی گئی مسلم دانشوروں کی میٹنگ میں جاوید اختر، شبانہ اعظمی، سیدہ حمید ، شبنم ہاشمی، رعنا ایوب، زیڈ کے فیضان، ظفر محمود وغیرہ کو بلایا گیا ہے۔ اس میں مسلم تنظیموں کے رہنماوں اور مسلمانوں کی آواز اٹھانے والے کئی رہنماوں کو نہیں بلایا گیاہے، جس کی وجہ سے راہل گاندھی کی میٹنگ پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ سوال جاوید اختر، شبانہ اعظمی اور شبنم ہاشمی کے ناموں پر مخالفت کی جارہی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز