چین کے سفیر سے ملاقات کی راہل گاندھی نے کی تصدیق ، کہا : پیچیدہ معاملات کی معلومات لینا میرا کام

Jul 10, 2017 09:35 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 09:36 PM IST

نئی دہلی: چین کے سفیر سے ملاقات کے معاملے پر پارٹی کی ’ہاں‘ اور ’نا‘ سے ہوئی خفت کے بعد کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج خود سامنے آکر اپنی ملاقات کی تصدیق کی۔ مسٹر گاندھی نے ٹوئٹر کے ذریعہ واضح کیا کہ ان کی چین کے سفیر لاو زااوہوئی سے ملاقائی ہوئی ہے اور ایک ذمہ دار لیڈر ہونے کے ناطے مختلف موضوعات پر معلومات حاصل کرنا ان کا کام ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا ’’ اہم امویر کے بارے میں جانکاری رکھنا میرا کام ہے۔ میں نے چین کے سفیر، سابق قومی سلامتی مشیر، شمال مشرق کے کانگریسی رہنماوں اور بھوٹان کے سفیر سے ملاقات کی ہے۔‘‘

اس مسئلے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر نشانہ سادھا اور کہا کہ ان کی ملاقات کے سلسلے میں حکومت میں اتنی بوکھلاہٹ ہے تو وہ بتائے کہ اس کے تین وزیر اس دوران چین کیوں گئے تھے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا ’’اگر حکومت سفیر سے میری ملاقات پر اتنی پریشان ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ جب چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی چل رہی ہے تو حکومت کے تین وزیر چین کی مہمان نوازی کا لطف کیوں اٹھارہے ہیں۔‘‘

چین کے سفیر سے ملاقات کی راہل گاندھی نے کی تصدیق ، کہا : پیچیدہ معاملات کی معلومات لینا میرا کام

کانگریس کے نائب صدر نے اپنے ٹوئٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ کے 2014 کے دورہ ہند کے دوران گجرات میں ان کے ساتھ جھولے پر بیٹھنے کی تصویر بھی پوسٹ کیا ہے اور لکھا ہے’’ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ چین کے ایک ہزار فوجی ملک کی سرحد کے اندر داخل ہوجائیں اور میں جھولا جھلاتا رہوں۔‘‘ انہوں نے اس کے ساتھ ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسٹر جن پنگ ہندوستان کے دورہ پر ہیں اور اسی وقت تقریباً ایک ہزار چینی فوجی لداخ علاقے میں ہماری سرحد میں داخل ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے چینی سفیر کے ساتھ مسٹر گاندھی کی ملاقات کے متعلق خبروں کو ’فرضی‘ قراردیتے ہوئے آج ٹوئٹ کیا تھاکہ ’بھکت چینل تین مرکزی وزیر وں کے چین کے دورہ یا جی 20کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مویدی کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات پر سوال اٹھانے کے بجائے فرضی خبر چلا رہے ہیں۔‘‘

بہر حال کانگریس کے ایک ترجمان منیش تیواری نے چند ہی گھنٹے بعد معمول کی پریس بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ کانگریس کے نائب صدر چینی سفیر کے ساتھ ہی بھوٹان کے سفیر او روزارت خارجہ کے سابق افسر شنکر مینن سے ملاقات کی ہے۔ عوامی زندگی میں ہونے کی وجہ سے کانگریس کی صدر او رنائب صدر مختلف سیاسی لیڈروں، سفیروں ، ماہرین اقتصادیات وغیرہ سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔

مسٹر تیواری نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے ہیمبرگ میں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران سرحدی تنازع کا معاملہ کیوں نہیں اٹھایا او رمسٹر مودی چین کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جب چین کے ساتھ تکرار چل رہی ہے تو اس ماحول میں مودی حکومت کے وزیر ثقافت و سیاحت مہیش شرما اور وزیر صحت جے پی نڈا چین کیوں گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز