اترپردیش کے بیشترپیٹرول پمپ ایس ٹی ایف کے راڈار پر، 13 پمپ ہوئے سیل

لکھنؤ۔ الیکٹرانک آلہ کے ذریعہ پیٹرول کم تولنے والے پیٹرول پمپ ڈیلروں کے خلاف اترپردیش کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اور تیل کمپنیوں کی مہم جاری ہے۔

May 01, 2017 07:33 PM IST | Updated on: May 01, 2017 07:33 PM IST

لکھنؤ۔  الیکٹرانک آلہ کے ذریعہ پیٹرول کم تولنے والے پیٹرول پمپ ڈیلروں کے خلاف اترپردیش کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اور تیل کمپنیوں کی مہم جاری ہے۔ اس سلسلہ میں راجدھانی لکھنؤ میں اب تک 13 پٹرول پمپوں کو سیل کیا جا چکا ہے اور 24 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اترپردیش پٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کے پی این سنگھ کے تئیں پیٹرول پمپوں میں گڑ بڑی پائے جانے کے بعد انہیں بند کردیاگیا، چھاپے کی کارروائی کے ملازمین اور تیل کمپنیوں کے ملازمین نے چھاپے کی کارروائی کی۔ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد ایس ٹی ایف نے جمعہ کی رات سے ہی شہر میں پٹرول پمپو کی جانچ کرنی شروع کردی تھی۔ پیٹرول پمپوں سے جیپ لگاکر گاڑیوں میں قیمت کے تناسب سے کم تیل ملنے کی دھاندلی بڑے پیمانہ پر چل رہی ہے۔ 25 میں سے 13 پیٹرول پمپوں میں جانچ کیے ہیں چھیڑ چھاڑ کے ثبوت پائے گئے۔

افسران نے آج یہاں بتایا کہ آنے والے دنوں میں پیٹرول پمپ مالکوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پورے ریکٹ کی جانچ کے لئے انسپکٹر اور سب انسپکٹر کی سطح کے افسران کی سات رکنی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو سیدھے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی نگرانی میں کام کرے گی۔ پولیس ٹیم پچھلے جمعہ کو حراست میں لئے گئے چپس سپلائر راجندر کی مدد لے رہی ہے کہ اس نے کن کن پیٹرول پمپو کو چپ فروخت کی ہے۔ ایس ٹی ایف نے اب تک ۲۴ سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں بیشتر پیٹرول پمپوں کے ملازم ہیں۔ ایس ٹی ایف چوری کے معاملہ میں تیل کمپنی کی مدد لینے کے علاوہ پیٹرول پمپ مشین بنانے والی کمپنی گلبرکو اور مڈکو سے بھی رابطہ میں ہیں جس سے تیل چوری کے نایاب طریقے ڈھونڈنے میں مدد مل سکے گی۔

اترپردیش کے بیشترپیٹرول پمپ ایس ٹی ایف کے راڈار پر، 13 پمپ ہوئے سیل

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز