حزب المجاہدین کمانڈر سبزار بٹ کی ہلاکت کے بعد وادی میں پھر کشیدگی ، ریل ، انٹرنیٹ اور پری پیڈ سم کارڈ کی آؤٹ گوئنگ بند

May 28, 2017 01:11 PM IST | Updated on: May 28, 2017 01:11 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں تمام مواصلاتی کمپنیوں کی موبائیل انٹرنیٹ اور پری پیڈ سم کارڈوں کی آؤٹ گوئنگ کال سہولیات اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رکھی گئیں۔ یہ سہولیات ہفتہ کو جنوبی ضلع پلوامہ کے سیموہ ترال میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر سبزار احمد بٹ کے سمیت دو جنگجوؤں کی ہلاکت کے محض دو گھنٹے بعد منقطع کی گئیں۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع پلوامہ میں انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلاتی نظام کو کلی طور پر منقطع کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب سبزار احمد کے سمیت دوجنگجوؤں اور ایک عام شہری کی ہلاکت کے خلاف مزید احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی میں ریل سروس اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں موبائیل انٹرنیٹ اور پری پیڈ سم کارڈوں کی آوٹ گوئنگ کال سہولیات سبزار احمد بٹ کی ہلاکت سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل کی گئی ہیں ۔ تاہم سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کو معطلی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ’تمام مواصلاتی کمپنیوں کو انٹرنیٹ خدمات خدمات معطل رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ اقدام احتیاطی طور پر سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے‘۔ ایک نجی مواصلاتی کمپنی کے عہدیدار نے بتایا ’ہمیں انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی معطل رکھنے کے لئے کہا گیا ہے‘۔

حزب المجاہدین کمانڈر سبزار بٹ کی ہلاکت کے بعد وادی میں پھر کشیدگی ، ریل ، انٹرنیٹ اور پری پیڈ سم کارڈ کی آؤٹ گوئنگ بند

دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی میں کل (ہفتہ کو) موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو سماجی رابطوں کی 22 ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز پر گذشتہ ایک ماہ سے عائد پابندی ختم کئے جانے کے محض 15 گھنٹے بعد معطل کیا گیا ۔ خیال رہے کہ ریاستی حکومت نے 26 اپریل کو وادی میں کشیدگی پر قابو پانے کے لئے فیس بک، ٹویٹر اور وٹس ایپ سمیت 22 سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ایک ماہ کی پابندی عائد کی تھی ۔ وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی معطلی اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں 2012 ء سے اپریل 2017 ء تک 29 مرتبہ انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں۔ بعض اوقات یہ خدمات مہینوں تک منقطع رکھی گئیں۔ وادی میں سیکورٹی اداروں کا ماننا رہا ہے کہ واد ی میں پاکستان نوجوانوں کو احتجاج پر اکسانے کے لئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کررہا ہے۔

دریں اثنا سبزار احمد کے سمیت دوجنگجوؤں اور ایک عام شہری کی ہلاکت کے خلاف مزید احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی میں ریل سروس اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہی۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہمیں انتظامیہ کی جانب سے ریل سروس کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل رکھنے کی ہدایت ملی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ریل سروس کو بحال کردیا جائے گا۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینیں آج بھی معطل کردی گئی ہیں‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریل سروس کو تشدد بھڑک اٹھنے کے خدشے کے پیش نظر معطل رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں تشدد کے واقعات کے دوران ریل گاڑیوں، ریلوے اسٹیشنوں اور لائٹنگ سسٹم کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔

وادی میں گذشتہ برس جولائی میں معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی شدید احتجاجی مظاہروں کے لہر کے سبب ریل سروس کم از کم چار ماہ تک معطل رہی تھی۔ وادی میں کل سبزار احمد اور اس کے دوسرے ساتھی کی ہلاکت کے بعددرجنوں مقامات پر بھڑک اٹھنے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک عام نوجوان ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز