کشمیر میں 'كشميريت' ابھی زندہ ہے: وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ

Jul 11, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 06:03 PM IST

نئی دہلی۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ امرناتھ یاتریوں پر دہشت گردانہ حملہ کی جموں وكشمير کے تمام طبقوں کے لوگوں نے ایک آواز میں سخت مذمت کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں كشميريت اب بھی زندہ ہے۔ وادی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر کل دہشت گردوں نے بڑا حملہ کیا تھا جس میں 7 عقیدت مندوں کی موت ہوگئی اور 19 زخمی ہو گئے ہیں۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے آج اپنی رہائش گاہ پر اعلی سطح کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں حملے کے بعد کی صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ "امرناتھ یاتریوں پر حملہ دہشت گردوں کی بزدلانہ حرکت ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورا ملک متحد ہے"۔

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے امرناتھ یاتریوں پر حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں ابھی كشميريت مکمل طور زندہ ہے"۔ وزیر داخلہ نے وزارت میں کشمیر امور کے انچارج کو فوری طور پر سرینگر روانہ ہونے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے مرکز اور ریاست میں تمام متعلقہ افسران کو حملے سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ زخمیوں کے مناسب علاج کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ امرناتھ یاتریوں کے قافلوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالنے والی سینٹرل ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف) کے ڈائریکٹر جنرل کے آر آر بھٹناگر اور فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت بھی سرینگر روانہ ہوگئے ہیں۔

کشمیر میں 'كشميريت' ابھی زندہ ہے: وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ

دریں اثناء، مسٹر ڈوبھال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو دہشت گردانہ حملے کے بعد ہونے والی اعلی سطحی جائزہ میٹنگ میں ہونے والی بات چیت سے واقف کرایا۔ حکومت نے امرناتھ یاتریوں کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ہنس راج گنگارام اهير کی قیادت میں ایک وفد سرینگر بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے جموں وكشمير کے گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے بھی صورت حال کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز