راجناتھ سنگھ نے ہندستانی معیشت سے متعلق سینئر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا کے تاثر کو کیا خارج ، کیا یہ دعوی

Sep 27, 2017 06:28 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 06:28 PM IST

نئی دہلی: ہندستانی معیشت کے تعلق سے سینئر بی جے پی لیڈر اور سابق وزیرخزانہ یشونت سنہا کے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ ہندستانی معیشت سخت بحران سے دوچار ہے، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ اس ناقدانہ مشاہدے کے برعکس ہندستانی معیشت نے بہترین کارکردگی انجام دی ہے اور عالمی سطح پر اس کا ’’وقار‘‘ قائم ہوا ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے سابق سربراہ راجناتھ سنگھ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ہندستانی معیشت آج کی سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔

کابینی میٹنگ پر میڈیا بریفنگ کے دوران نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سنگھ شروع میں تو اس حوالے سے جواب دینے سے کترائے اور یہ اصرار کرتے رہے کہ کابینہ کے ایجنڈے تک ہی یہ ملاقات محدود رکھی جائے۔ لیکن نامہ نگاروں نے جب بار بار پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہندستانی معیشت کا تعلق ہے تو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ ہندستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور یہ بات کسی کو نہیں بھولنا چاہئے۔ انہوں نےکہا کہ پوری دنیا میں اس کی وجہ سے ہندستان کا ایک وقار قائم ہوا ہے۔

راجناتھ سنگھ نے ہندستانی معیشت سے متعلق سینئر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا کے تاثر کو کیا خارج ، کیا یہ دعوی

مرکزی وزیر داخلہراجناتھ سنگھ ۔ فائل فوٹو

واضح رہے کہ مسٹر سنہا نے اپنے ایک مضمون میں جو آج ہی شائع ہوا ہے یہ دعوی کیا کہ ہندستانی معیشت کو سخت بحران کا سامنا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پچھلے تین برسوں میں غیر سرکاری سرمایہ کاری میں اتنی کمی آئی ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں ایسی کمی کا سامنا نہیں ہوا۔ مسٹر سنہا نے دعوی کیا کہ صنعتی پیداوار ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے، ذراعت کو بحران کا سامنا ہے اور تعمیراتی صنعت بھی متاثر ہے۔ یہ صنعت بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ مسٹر سنہا نے لکھا ہے کہ نجی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے۔ زراعت کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں کمی اور صنعتی پیداوار میں گراوٹ آئی ہے۔ سروس سیکٹر کے شعبے میں گراوٹ آئی ہے اور برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔

ہر شعبے کی مالی حالت خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی اقتصادی آفت ثابت ہوئی ہے۔ جی ایس ٹی پر عملدرآمد کرنے کا طریقہ مضحکہ خیز ہے، جس کی وجہ سے صنعت اور کاروبار کے شعبے میں اتھل پتھل مچ گئی۔ لوگوں کی نوکری ختم ہو چکی ہے اور نئی ملازمتیں دستیاب نہیں ہیں۔ نوٹ بندی اور اس کے بعد جی ایس ٹی کی وجہ سےحال ہی میں آئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق اس کی شرح ترقی 5.7 فیصد ہے جو چین سے کم ہے۔

بی جے پی لیڈرنےحال ہی میں تشکیل دی گئی اقتصادی مشاورتی کونسل کے پانچ ممبران کو پانچ پانڈووں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد اقتصادی بحران سے نکالنے میں مدد کریں گے۔ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی میعاد کے ڈاکٹر سی رنگاراجن کی سربراہی والی اقتصادی مشاورتی کونسل کو تحلیل کردیا تھا۔ حکومت نے سابق ماہر اقتصادیات وویک دیورائے کی صدارت میں مشاورتی کونسل کی تشکیل کی ہے۔اس کونسل میں رتن گھاٹل، رتھن رائے، سرجیت بھلا اور آشماگوئل کوممبربنایا گیا ہے۔

مسٹر سنہا نے کہا ہے کہ چھوٹی صنعت کاشعبہ اپنے وجود کو بچانے کے لئے جوجھ رہا ہے۔ اسے فوری امدادی پیکیج کی ضرورت ہے۔ حکومت بڑے مالیاتی بحران سے گزر رہی ہے۔ جی ایس ٹی کا ان پٹ کریڈٹ کا ریفنڈ 65 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ مجموعی ٹیکس 95 ہزار کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانسون توقعات کے مطابق نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک کے اقتصادی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں چھاپہ ماری کی روایت بڑھ رہی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سے اس میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پاس لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں جس میں کروڑ لوگوں کا مستقبل داؤ پر ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ معیشت کی تعمیر میں کافی محنت لگتی ہے جبکہ اسے آسانی سے تباہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز