رام مندر تنازع سے متعلق فریق نرموہی اکھاڑے میں سرپنچ کے معاملہ پر جھگڑا

Oct 11, 2017 11:38 AM IST | Updated on: Oct 11, 2017 11:38 AM IST

اجودھیا۔ متنازع رام جنم بھومی کے ایک اہم فریق نرموہی اکھاڑے میں سرپنچ کے معاملہ پر تنازع کھڑا ہوتا نظر آرہا ہے۔ اکھاڑے کے سرپنچ رہے بھاسکر داس کی ابھی حال میں موت ہوگئی تھی۔ اکھاڑے کے سرپنچ ہونے کی وجہ سے رام جنم بھومی تنازع میں وہی فریق تھے۔ان کی موت کے بعد نیا سرپنچ فریق ہوگا۔ اکھاڑے کی کل ہونے والی میٹنگ میں مہنت راجا رام چندرآچاریہ کو سر پنچ منتخب کرلیا گیا،جبکہ چتر کوٹ کے مہنت نرسنگھ داس کو نائب سرپنچ منتخب کیا گیا۔ راجا رام چندرآچاریہ گجرات کے رہنے والے ہیں۔

آنجہانی بھاسکر داس فیض آباد کے ناکہ میں واقع ہنومان گڑھی کے مہنت تھے۔ ان کے رہتے ہوئے ہی را م داس کو مہنت بنادیا گیا تھا۔ بھاسکر داس بیمار رہتے تھے ،اسلئے انہوں نے ہی یہ ذمہ داری رام داس کو سونپ دی تھی۔ نرموہی اکھاڑے کے سرپنچ کے عہدہ کیلئے را م داس مضبوط امیدوار تھے،لیکن اکھاڑے کے سادھوؤں نے راجا رام چندرآچاریہ کو سرپنچ بنا دیا۔

رام مندر تنازع سے متعلق فریق نرموہی اکھاڑے میں سرپنچ کے معاملہ پر جھگڑا

file photo

مہنت رام داس اسے سازش قرار دیتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ وہ اس معاملہ کو اب عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بھاسکر داس نے ان کے نام کی وصیت کی تھی،اس پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ قابل غور ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ اسپیشل بنچ نے 30ستمبر2010کو اپنے فیصلہ میں متنازع بابری مسجد/ رام جنم بھومی کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ اس میں ایک حصہ نرموہی اکھاڑے کو دیئے جانے کا حکم تھا۔ یہ معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز