رام رحیم کیس : ہریانہ ،راجستھان،پنجاب اور دہلی میں تشدد کیلئے بی جے پی حکومت ذمہ دار : ڈاکٹر منظور عالم

ہریانہ ،راجستھان،پنجاب اور دہلی میں تشدد کیلئے بی جے پی حکومت ذمہ دار ہے ،بھکتوں کے تشددبپاکرنے ،املاک کو نقصان پہنچانے،میڈیا پر حملہ کرنے اور بے گناہوں کی جان لینے کیلئے گرمیت بابار ام رحیم سے زیادہ قصور وار اور ذمہ دار ریاستی و مرکزی سرکار ہے

Aug 27, 2017 06:28 PM IST | Updated on: Aug 27, 2017 06:28 PM IST

نئی دہلی : ہریانہ ،راجستھان،پنجاب اور دہلی میں تشدد کیلئے بی جے پی حکومت ذمہ دار ہے ،بھکتوں کے تشددبپاکرنے ،املاک کو نقصان پہنچانے،میڈیا پر حملہ کرنے اور بے گناہوں کی جان لینے کیلئے گرمیت بابار ام رحیم سے زیادہ قصور وار اور ذمہ دار ریاستی و مرکزی سرکار ہے جس نے حالات پر قابوپانے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا ،تشددکامکمل اندازہ ہونے کے باوجود اپنے سیاسی مفاد کیلئے پولس اور پیر ا ملٹری فوج کا بروقت اور صحیح استعمال نہیں کیاگیا ،جائے حادثہ پر محض انہیں شوپیس کے طور پر لگائے رکھاگیا۔

ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کیا ۔ انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بھی بھکتوں کی تعداد ان گنت ہے اور انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ بھکت کس قدر اندھے ہوتے ہیں،عقیدت اور بھکتی میں وہ ہر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ،کچھ بھی گر گزرتے ہیں ایسے میں نریندر مودی صاحب کیلئے ضروری تھا کہ لاء اینڈ آڈرکا صحیح انتظام کرتے ،پولس اور پیر ا ملٹری فوج کو تشدد پر قابو پانے کیلئے مکمل اختیار دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جوانتہائی شرمناک ہے ۔

رام رحیم کیس : ہریانہ ،راجستھان،پنجاب اور دہلی میں تشدد کیلئے بی جے پی حکومت ذمہ دار : ڈاکٹر منظور عالم

فائل فوٹو

ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ ہریانہ ہائی کورٹ کا سوال بالکل بجا اور درست ہے کہ نریندر مودی صرف بی جے پی کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں،ملک کو تشدد سے بچانا اور حالات پر قابو پانا ان کی مکمل ذمہ داری ہے لیکن ہریانہ کی کھٹر سر کار اور مرکزکی بی جے پی سرکار نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے ہندوستان کے چار صوبوں کو دہکتے آگ میں چھوڑ دیا اور سب سے افسوسناک بات یہ رہی کہ ایک ریپسٹ بابا کے سامنے پوری حکومت سرینڈر کر گئی۔

ڈاکٹر منظور عالم نے سوال کرتے ہوئے کہاکہ بابار ام پال اور باباآسام رام کے قضیے میں ایسے حالات پیش آچکے ہیں جب بھکتوں نے قانون کو ہاتھ میں لے لیاتھا ایسے میں ضروری تھاکہ ماضی سے سبق لیتے ہوئے سخت سیکوریٹی کے انتظام کئے جاتے، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ؟ ،انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ پولس اتنی کمزور کیوں ہے کہ وہ ایک بابا کے غنڈوں سے بھی نمٹ نہیں سکتی ہے ؟،کیا ہندوستان میں ایک زانی بابا کی اتنی حیثیت ہے کہ وہ اور اس کے پالتو غنڈے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور دسیوں بے گناہوں کی جان لے لیں،کڑور وں کی املاک کو تباہ وبرباد کردیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز