سادھوی آبروریزی کیس : ڈیرہ سربراہ گرمیت رام رحیم کو 2 معاملوں میں 20 سال کی سزا ، 30 لاکھ کاجرمانہ

Aug 28, 2017 02:46 PM IST | Updated on: Aug 28, 2017 09:05 PM IST

روہتک : قومی جانچ ایجنسی (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت نے سادھوی عصمت دری کیس میں سرسا کے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو آج 20سال کی سزا سنائی اور اس کے ساتھ ہی اس پر 30لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔ سی بی آئی کے ترجمان ابھیشیک دیال نے نئی دہلی میں واضح کیا کہ رام رحیم پر عائد عصمت دری کے دومقدمات میں 10-10 سال کی سزا دی گئی ہے، جو الگ الگ چلیں گی۔ ایک سزا ختم کرنے کے بعد دوسری سزا شروع ہو گی۔ اس طرح اسے 20 سال تک جیل کی کوٹھری میں قید رہنا پڑے گا۔ جسٹس جگدیپ سنگھ نے سنیریا ضلع جیل میں قائم ایک عارضی عدالت میں عصمت دری کے معاملات میں 15-15 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس رقم سے متاثرہ دونوں سادھوی کو 14-14 لاکھ روپے دئے جائیں گے۔

اس سے پہلے سزا کی مدت کی بابت الجھن تھی۔ پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ رام رحیم پر 10 سال قید اور 65 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے، لیکن بعد میں سی بی آئی نے نئی دہلی میں صورت حال کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ عصمت دری کے دونوں مقدمات میں الگ الگ سزا سنائی گئی ہے۔سزا کی ایک مدت ختم ہونے کے بعد دوسری مدت شروع ہوگی اس طرح رام رحیم کو 20سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور 30لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ رام رحیم کے وکیل ایس کے نروانہ نے کہا ہے کہ فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کی جائے گی۔ سی بی آئی عدالت نے ڈیرا چیف کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 ، 506 اور 509 کے تحت سزا سنائی۔

سادھوی آبروریزی کیس : ڈیرہ سربراہ گرمیت رام رحیم  کو 2 معاملوں میں 20 سال کی سزا ، 30 لاکھ کاجرمانہ

سزا کا اعلان ہوتے ہی گرمیت رام رحیم نے عدالت میں رونا شروع کر دیا۔جج نے جیل حکام کو اسے قید کے دوران پہنی جانے والی وردی فراہم کرنے کا حکم دیا۔ جج نے کہا کہ رام رحیم کو اس کے علاوہ کسی اور کپڑے پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جج نے ڈیرہ چیف کو جیل بیرک لے جانے سے قبل طبی جانچ کرانے کو بھی کہا۔ رام رحیم کو جیل میں قیدی نمبر 1997 دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رام رحیم کو قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد پنچکولہ کے ساتھ ساتھ ہریانہ، پنجاب ، دہلی اور کئی دیگر ریاستوں میں ڈیرہ کے پیروکاروں نے بڑے پیمانہ پر تشد دکیا تھا جس کے پیش نظر سزا سنانے کے لئے جیل میں ہی عارضی خصوصی عدالت قائم کی گئی۔ رام رحیم کو سزا سنانے کے لئے جج کو ہیلی کاپٹر سے صبح سوناریا جیل لایا گیا۔ قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد پیروکاروں کے تشدد کے پیش نظر انتظامیہ نے اس مرتبہ سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ روہتک جیل کے آس پاس کا علاقہ چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور کئی کلومیٹر کے دائر ے میں کسی کے بھی آنے جانے پر مکمل طورپر روک ہے۔ کئی سطحوں پر سکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے اور روہتک میں دفعہ 144نافذ کی گئی ہے۔

یہ معاملہ 2002کا ہے تب ایک سادھوی نے گمنام خط لکھ کر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے اس معاملے کی جانچ کی درخواست کی تھی۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں خود نوٹس لیتے ہوئے سی بی آئی کو تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی نے 30جولائی 2007کو معاملہ درج کیا تھا اور اس معاملے میں 18سادھویوں سے پوچھ گچھ کی تھی جن میں سے دو نے عصمت دری کا اعتراف کیا تھا ۔ اس معاملہ کی ستمبر 2008میں سماعت شروع ہوئی تھی۔

گرمیت رام رحیم نے سماعت کے دوران عصمت دری کے الزام کو جھوٹا بتایا اور کہا کہ وہ جنسی تعلقا ت قائم کرنے کا اہل نہیں ہے۔ گزشتہ 25اگست کو ہوئے تشدد میں 38لوگ مارے گئے تھے۔ انتظامیہ نے احتیاطاََ آئندہ 48گھنٹے کے لئے ہریانہ میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات معطل کردی تھیں۔ پنجاب میں بھی 29اگست تک انٹرنیٹ /موبائل خدمات کو معطل رکھی گئی ہیں۔ سوناریا جیل کے آس پاس سیکورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود کسی بھی ایمرجنسی حالت میں پولیس کو گولی مارنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فوج کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ ہریانہ کے دیگر اضلاع میں بھی سیکورٹی انتظامات مضبوط کئے گئے ہیں۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں پولیس کے ساتھ دیگر سلامتی دستوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز