اے بی وی پی کے خلاف مہم سے پیچھے ہٹیں گرمہر کور، تنہا چھوڑنے کی بھی اپیل

Feb 28, 2017 12:06 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 12:07 PM IST

نئی دہلی۔  ٹویٹر پر نازیبا تبصرے اور دھمکیاں ملنے کے بعد کارگل کے شہید کی بیٹی گرمهر كور نے رام جس کالج میں طلبا کے گروپوں کے درمیان ہوئے تشدد کی مخالفت میں شروع کی گئی اپنی مہم سے آج الگ ہونے کا اعلان کیا۔ گرمهر نے اس معاملے پر کئی ٹویٹ کئے تھے جن میں انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں کانگریس کی طلبا شاخ این ایس یو آئی اور اے آئی ایس اے کی جانب سے منعقد کئے جانے والے امن مارچ میں طلبا سے شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ گرمهر نے کہا "میں مہم سے پیچھے ہٹ رہی ہوں۔ سبھی کو مبارک باد۔ میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیجئے۔ مجھے جو کہنا تھا، میں نے کہہ دیا۔ اگر کوئی میری ہمت اور بہادری پر سوال کرتا ہے تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں پہلے ہی کافی ہمت دکھا چکی ہوں۔ "

گرمہر نے کہا "یہ مہم طالب علموں سے منسلک ہے نہ کہ مجھ سے۔ برائے کرم بڑی تعداد میں مارچ میں شامل ہوں۔ نیک خواہشات۔ " دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج کے ایک پروگرام میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علم عمر خالد اور شہلا رشید کو مدعو کئے جانے کے معاملے نے تشدد کی شکل اختیار کر لی تھی۔ کالج کے ایک پروگرام میں جے این یو کے ان دونوں لوگوں کو بلانے کی مخالفت میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکنوں نے رام جس کالج میں ہنگامہ کیا تھا جس کے بعد کالج انتظامیہ نے انھیں مدعو کئے جانے سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ اس دوران اے بی وی پی اور آئسا کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔

اے بی وی پی کے خلاف مہم سے پیچھے ہٹیں گرمہر کور، تنہا چھوڑنے کی بھی اپیل

واضح ر ہے کہ رامجس کالج میں تشدد کے خلاف این ایس یو آئی کی طرف سے امن مارچ نکالے جانے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر گرمهر کورکو دھمکیاں ملنے لگی تھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز