گرمہر کو آبروریزی کی دھمکی ملنے پر ایف آئی آر درج، رامجس تشدد معاملہ میں دہلی پولیس کونوٹس

Feb 28, 2017 07:24 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 07:24 PM IST

نئی دہلی۔ دہلی یونیورسٹی میں ملک مخالف نعرے بازی کے سلسلے میں بائیں بازو کی حامی طلبہ تنظیم آئیسا اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے مابین تنازعہ کے درمیان شہید فوجی کی بیٹی گرمهر کور کو آبروریزی کی دھمکی ملنے کے واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دہلی پولس نے آج اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی۔ لیڈی شری رام کالج کی طالبہ گرمهر کور نے الزام لگایا ہے کہ اے بی وی پی کے خلاف دوسری طلبہ تنظیموں کی حمایت کرنے کی وجہ سے اسے سوشل میڈیا پر مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس کی آبروریزی کرنے کی دھمکی بھی ملی ہے۔ گرمهر نے اس کی شکایت دہلی خواتین کمیشن (ڈی سی ڈبلیو)سے کی تھی جس پر کمیشن کی چیئرپرسن سواتی ماليوال نے اسے دہلی پولیس کو فارورڈ کر دیا تھا۔ دہلی پولس نے آج ٹویٹ کرکے بتایا کہ اس شکایت پر فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقہ کے ڈی سی پی نے گرمہر کور سے بات کی ہے اور نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 354-اے و 506 نیز آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت ایف آئی آر درج کر کے چھان بین شروع کردی گئی ہے اور ساتھ ہی گرمهر کو سکیورٹی فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا ہے۔

سواتی مالیوال نے پولس کو اس کے لئے شکریہ کہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ مجرم افراد کو جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ دریں اثناء، گرمهر نے تنازعہ بڑھتا دیکھ کر اپنے مسلسل ٹویٹس میں کہا ہے کہ وہ اب اس سے الگ ہونا چاہتی ہیں۔ جن لوگوں نے اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا ان سب کا وہ شکریہ ادا کرتی ہیں۔

گرمہر کو آبروریزی کی دھمکی ملنے پر ایف آئی آر درج، رامجس تشدد معاملہ میں دہلی پولیس کونوٹس

رامجس تشدد معاملہ میں دہلی پولیس کو نوٹس

وہیں، دوسری طرف،  قومی انسانی حقوق کمیشن نے دہلی کے رامجس کالج میں طلبہ اور میڈیا پر پولس کی کارروائی کا نوٹس لیتے ہوئے دہلی پولس کمشنر کو نوٹس جاری کر کے چار ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ کمیشن نے یہ نوٹس ایک شکایت پرجاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولس اہلکاروں نے 22 فروری کو کالج کیمپس میں ایک طالبہ کو مارا پیٹا اور اس واقعہ کی ریکارڈنگ کر نے والے میڈیا اہلکار کے کیمرے چھین لیے۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ پولس نے کچھ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے ہوئے ان کی پٹائی کی۔ کچھ طالب علموں کو سوشل میڈیا پر دھمکی دی گئی ہے۔ قومی کمیشن نے اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے پولیس کمشنر کو معاملے کی چار ہفتے میں تفصیل سے رپورٹ دینے کو کہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رامجس کالج کے ایک پروگرام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے چند متنازعہ طالب علموں کو مدعو کیے جانے پر طلبہ تنظیموں کے دو دھڑوں میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز