طلاق ثلاثہ اور تعدد ازداواج کے معاملہ میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی : رضا اکیڈمی

May 17, 2017 09:01 PM IST | Updated on: May 17, 2017 09:01 PM IST

نئی دہلی: طلاق ثلاثہ، حلالہ اور تعدد ازدواج کے جاری مقدمے میں شامل فریق رضا اکیڈمی نے آج ان معاملات کو سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے قطعی طور پر باہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانان ہند خواہ کسی بھی مسلک یا فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ،دین میں مداخلت کی کسی کو اجازت نہ دینے کے محاذ پر پوری طرح متحد ہیں۔

رضا اکیڈمی، جامعہ اشرفیہ،فلاح ریسرچ فاونڈیشن، جماعت رضائے مصطفیٰ اور دوسرے اداروں کے ذمہ داران نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے اقلیتی کردارکی بحالی اور بابری مسجد کی بازیابی سے مسلمانوں کا کوئی مسلکی یا فکری طبقہ دست برادار نہیں ہوسکتا اسی طرح طلاق ثلاثہ اور تعدد ازداواج کے معاملے بھی کوئی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔

طلاق ثلاثہ اور تعدد ازداواج کے معاملہ میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی : رضا اکیڈمی

یہ پوچھے جانے پر کہ اگر عدالت کا کوئی فیصلہ یا پارلیمانی قانون سازی رکاوٹ بنتی ہے ،تو ملت اسلامیہ ہند کا کیا موقف ہوگا ! دار القلم کے مولانا یسٰین اختر مصباحی نے کہا کہ یہ ایک مفروضہ ہے ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسی کوئی نوبت نہیں آئے گی اور سبھی ذمہ دار شعبے اور ادارے سمجھداری سے کام لیں گے۔

ڈاکٹر فضل اللہ چشتی نے دستور ہند کی ایک سے زیادہ دفعات کے حوالے کہا کہ بالفرض حکومت چاہےبھی تو مذکورہ حوالوں سے مطلق مداخلت سے کام نہیں لئے سکتی اور عدالت بھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں سنا سکتی جو آئین سے متصادم ہو۔انہوں نے کہا کہ ہندستانی آئین میں رسم و رواج کی درستگی کی بات تو کہی گئی ہے لیکن کسی عائلی قانون کے ساتھ کس بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے تحفظ کی قطعی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔

مولانا محمد سعید نوری اور مفتی نظام الدین نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے بے جا استحصال کو صرف اور صرف تعلیم سے روکا جا سکتا ہے۔ پڑھے لکھے گھرانوں میں طلاق کی ایسی گنجائشوں سے منفی استفادہ مطلق نہیں کیا جاتا۔ایسے میں تعلیم کو عام کرنے کے محاذ پر حکومت اور ملی اداروں میں اشتراک عمل نتیجہ خیز تبدیلی لا سکتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز