یوپی مدرسہ تعلیمی بورڈ کو یوگی حکومت نے حاشیہ پرڈالا، امداد یافتہ دینی مدارس بحران کا شکار

الہ آباد۔ بی جے پی حکومت کے برسراقتدارآنےکے بعد یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے وجود پرہی سوال کھڑے ہو گئے ہیں ۔

Oct 24, 2017 11:58 AM IST | Updated on: Oct 24, 2017 11:58 AM IST

الہ آباد۔ بی جے پی حکومت کے برسراقتدارآنےکے بعد یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے وجود پرہی سوال کھڑے ہو گئے ہیں ۔ یوں تو ریاستی حکومت سے امداد یافتہ اور تسلیم شدہ دینی مدارس کے انتظامات اور نگرانی کی ذمہ داری مدرسہ بورڈ کی ہے ۔ لیکن  یوگی حکومت میں مدرسہ بورڈ کو نظر انداز کرکے سرکاری احکامات براہ راست دینی مدارس کو دیئے جا رہے ہیں ۔ اس نئی صورت حال سے جہاں ایک طرف دینی مدارس کے ذمہ داران سخت پریشان ہیں۔  وہیں دوسری جانب بعض افراد اس کو دینی مدارس پر یوگی حکومت کی دباؤ کی پالیسی سے تعبیرکر رہے ہیں ۔ صرف دینی مدارس پر ہی سی سی ٹی وی کیمرے، بایو میٹرک مشین سے حاضری، ویب پورٹل،  یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی ویڈیو ریکارڈنگ کی شرائط ہیں۔

یوپی کی یوگی حکومت نے ریاستی مدرسہ بورڈ کو ایک طرح سے حاشیہ پر ڈال دیا ہے ۔ مدرسہ بورڈ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک غیر اردو داں شخص راہل گپتا کو مدرسہ  بورڈ کا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے ۔ ضابطے کے مطابق مدرسہ بورڈ کا کام ہے کہ وہ ریاست کے امداد یافتہ  اورتسلیم شدہ دینی مدارس کے تعلیمی انتظامات کی نگرانی کرے ۔ ایسے میں حکومت اگراپنی کوئی پالیسی دینی مدارس پر نافذ کرنا چاہتی ہے تو وہ مدرسہ بورڈ کے ذریعے ہی ان کو نافذ کر سکتی ہے ۔ لیکن  ریاست میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے  کے بعد مدرسہ بورڈ کو کلی طور پر نظر انداز کرکے حکومت  دینی مدارس کو براہ راست اپنے احکامات صادر کررہی ہے ۔

یوپی مدرسہ تعلیمی بورڈ کو یوگی حکومت نے حاشیہ پرڈالا، امداد یافتہ دینی مدارس بحران کا شکار

دینی مدارس کے ذمہ داران حکومت کے اس رویے کو مدارس پر دباؤ کی پالیسی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں بھی حکومت کے اس رویے کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے فیصلہ کر رہی ہے تو اس کا نفاذ تمام تعلیمی اداروں میں یکساں طور  پر ہونا چاہئے ۔ان کا  سوال ہے کہ   اصلاحات کے نام پر صرف دینی مدارس کو ہی کیوں نشا نہ بنایا جا رہا ہے ؟

Loading...

دینی مدارس کے ذمہ داران حکومت کے اس رویے کو مدارس پر دباؤ کی پالیسی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ دینی مدارس کے ذمہ داران حکومت کے اس رویے کو مدارس پر دباؤ کی پالیسی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔

دینی مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے ،با یو میٹرک مشین ،ویب پورٹل ، یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریبات کی ویڈیو ریکارڈنگ ، یہ چند ایسے فیصلے ہیں جو صرف دینی مدارس پر ہی نافذ کئے گئے ہیں ۔ دینی مدارس کا کہنا ہے کہ وہ قانونی طور پر صرف مدرسہ بورڈ کے فیصلے کے پابند ہیں ۔ لیکن جس طرح ریاستی حکومت مدرسہ بورڈ کو حاشیہ پر ڈال کر براہ راست دینی مدارس کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، اس سے مدارس کے لئے بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز