مودی حکومت کا سپریم کورٹ کو جواب، کشمیر میں علیحدگی پسندوں سے نہیں کریں گے بات

کشمیر میں قیام امن کے لئے وہ تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کو تو تیار ہیں لیکن کسی بھی حال میں آزادی کی مانگ کرنے والے علیحدگی پسندوں سے بات نہیں ہوگی۔

Apr 28, 2017 09:40 PM IST | Updated on: Apr 28, 2017 09:40 PM IST

نئی دہلی: مرکزی سرکار نے آج سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں قیام امن کے لئے وہ تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کو تو تیار ہیں لیکن کسی بھی حال میں آزادی کی مانگ کرنے والے علیحدگی پسندوں سے بات نہیں ہوگی۔ دراصل سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے لوگوں اور سرکار سے بات چیت کریں ۔ اس کے جواب میں مرکزی سرکا نے مذکورہ بات کہی۔

مرکزی سرکار کی جانب سے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی تین رکنی بنچ کے سامنے پیش اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرکار کشمیر وادی میں امن بحالی کے لئے خود کوششیں کررہی ہے اور حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی اور ریاست کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کے درمیان ہوئی میٹنگ اور اس دوران وادی کے حالات پر ہوئی بحث اس بات کے پختہ ثبوت ہیں۔

مودی حکومت کا سپریم کورٹ کو جواب، کشمیر میں علیحدگی پسندوں سے نہیں کریں گے بات

عدالت جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر سماعت کررہی ہے۔ بنچ کے دیگر اکران جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سنجے کشن کول ہیں۔ عرضی گزار نے وادی میں سلامتی دستوں کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگانے کی ہدایت کی تھی مگر اس نے اس سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد ایسوسی ایشن نے عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکٹھایا ہے۔

مسٹر روہتگی نے عرضی گزار کی اس دلیل کی بھی پرزور مخالفت کی تھی جس میں اس نے دعوی کیا تھا کہ مرکزی سرکار وادی میں امن کی بحالی کے ارادے سے مذاکرات کے لئے نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرضی گزار حریت کانفرنس جیسی علیحدگی پسند تنظیم کو سرکار کا یہ خیال ہے کہ وہ آزادی کی مانگ کرنے والے علیحدگی پسند لیڈروں سے بات چیت نہیں کرے گی۔

اٹارنی جنرل نے کہا ’’سرکار تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن آزادی کی مانگ کرنے والے علیحدگی پسندوں سے بات کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا‘‘۔ سماعت کے دوران عدالت نے وادی میں پتھراؤ کو لیکر سخت رائے زنی کی۔ عدالت نے بھی کہا کہ پتھر بازی اور بات چیت ایک ساتھ کیسے ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بار ایسوسی ایشن سے وادی کشمیر میں پتھر بازی اور سڑکوں پر پرتشدد تحریک کو روکنے کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کرنے کو کہا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز