کل سے نافذ ہوجائے گا رئیل اسٹیٹ قانون ، پڑھیں کیا کیا چیزیں ہوجائیں گی تبدیل

Apr 30, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Apr 30, 2017 08:02 PM IST

حیدرآباد : مرکزی وزیر شہری ترقی ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ایکٹ 2016کا نفاذ کل یعنی مئی ڈے کے موقع پر ہوگا جس کے ذریعہ ’’خریدار کو بادشاہ ‘‘ بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہاں پر میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعہ ہموار ماحول میں سرمایہ کاری کے بارے میں خریداروں کا اعتماد بڑھنے سے شعبہ اور ڈیولپرس دونوں کو فائدہ ہوگا۔ یہ قانون خریداروں اور ڈیولپرس دونوں کے لئے باعث اطمینان ہے ۔خریداروں ‘ ڈیولپرس دونوں اور رئیل اسٹیٹ کے ایجنٹس کے حقوق اور فرائض کا اس قانون میں واضح ذکر کیا گیا ہے اور کوئی بھی متاثرہ فریق دوسرے فریق کی جانب سے معاہدہ کے قواعد کی خلاف ورزی پر اس کے تصفیہ کی خواہش کرسکتا ہے۔

اس تاریخی قانون کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ شفافیت ‘ احتساب اور مہارت کو اہم رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں برقرار رکھا جائے گا۔ تمام جاریہ پراجکٹس جنہیں تکمیل کا سرٹیفیکیٹ نہیں ملا ہے اور نئے پروجیکٹس کا بھی ڈیولپرس جون کے اواخر تک اندراج کرواسکتے ہیں۔ انہو ں نے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ حکام کے پاس پروجیکٹس کے رجسٹریشن سے ‘ پروجیکٹ کے آغاز کے موقع پر بلڈر کی جانب سے کئے گئے وعدے کی تکمیل میں ناکامی پر ان مسائل کا تصفیہ کیاجاسکتا ہے۔

کل سے نافذ ہوجائے گا رئیل اسٹیٹ قانون ، پڑھیں کیا کیا چیزیں ہوجائیں گی تبدیل

انہوں نے کہا کہ کل سے رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں نئے دور کا آغاز ہوگاکیوں کہ اہم قانون سازی 2008ء میں رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں قواعد کے 8سال کے بعد حقیقت بننے جارہی ہے۔ مسٹر نائیڈو جو اطلاعات و نشریات کا قلمدان بھی رکھتے ہیں ‘ نے کہا کہ یو پی اے حکومت کو رئیل اسٹیٹ بل 2013میں راجیہ سبھا میں پیش کرنے کے لئے 5سال لگے۔ یہ بل 2014کے انتخابات سے پہلے پیش کیاگیا۔

اس قانون کی اہمیت اور ملک بھر کے خریداروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے دباو پر انہو ں نے کہا کہ ہم نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے اور بالآخر یکم مئی سے اس کا نفاذ ہونے جارہا ہے۔ صرف رہائشی پروجیکٹس کو اس قانون کے دائرہ میں لانے کی حقیقی تجویز تھی تاہم ہم نے کمرشیل پراجکٹس کے لئے اس کا اطلاق رکھا ہے۔ اس بل کو حقیقت میں بدلنے کے لئے قانون سازی میں تاخیر کی گئی۔ اپنے خون پسینہ کی کمائی کے ذریعہ مکان کے مالک بننے کے خواہشمند لاکھوں لوگوں کے باوجود ایسی کوششیں کی گئیں تاکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو پارلیمنٹ کے قانون کے ذریعہ قانون سازی سے روکا جاسکے ۔

وزیرموصوف نے کہا کہ ہم نے تمام فریقین بشمول صارفین کی فیڈریشنس اور رئیل اسٹیٹ کے اداروں سے کئی دور کی بات چیت کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ جو دوسرا بڑا آجروں والا شعبہ ہے کو اس قانون سازی سے بتدریج فائدہ ہوگا۔ انہو ں نے تمام کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ اس بل سے اس شعبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کم و بیش 15ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں بشمول آندھراپردیش ‘ بہار ‘ گجرات ‘ مدھیہ پردیش ‘ مہاراشٹرا ’ اڈیشہ ‘ اترپردیش ‘ انڈومان نکوبار جزائر ‘ چندی گڑھ ‘ دادر اور ناگر حویلی ‘ دمن اینڈ دیو اور لکشادیپ نے پہلے ہی رئیل اسٹیٹ کے قواعد کی توثیق کردی ہے جیسا کہ اس ایکٹ کے لئے ضروری ہے جبکہ دیگر ریاستیں جلد ہی اس کی توثیق کریں گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز