آدھار کارڈ والے میسیج اور کال سے اب ملے گی راحت

Nov 03, 2017 09:07 PM IST | Updated on: Nov 03, 2017 09:11 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بینک اکاؤنٹس اور موبائل فون نمبر کوآدھار نمبر سے جوڑنے پر حکومت کے فیصلے پر عبوری روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے، جج نے کہا کہ عدالت کی دوسری بینچ یہ فیصلہ کرے گی۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھون کی ایک بینچ نے اس معاملے پر چار درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا ہے عدالت عظمی نے حکومت کے اس فیصلے پر عبوری روک نہیں لگایا اور کہا کہ آدھار سے متعلق معاملات پر حتمی سماعت اسی مہینے کے اختتام تک شروع کرے گی ۔

بینچ نے کہا ہے کہ موبائل فون کمپنیوں کو گراہکوں اور بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو پیغامات بھیج کر خوف پیدا نہ کریں ۔ اس صورت میں، گراہکوں کو مسلسل پیغام بھیج کر آگاہ کیا جارہا ہے اگر اکاؤنٹس اور موبائل فون نمبر آدھارسے منسلک نہیں ہوتے تو ان کا اکاؤنٹ اور فون غیر فعال ہوجائے گا۔حکومت نے اس بات سے واضح طور سے انکار کر دیا ہے کہ ایسے پیغامات بھیجے گئے ہیں ، جس پر جسٹس سیکری نے کہا، ’’میں کہنا تو نہیں چاہتا ہوں لیکن مجھے بھی اس طرح کے پیغامات وصول ہورہے ہیں۔’’بینچ نے کہا کہ ایسے پیغامات لوگوں کو نہ بھیجے جائیں ۔

آدھار کارڈ والے میسیج اور کال سے اب ملے گی راحت

سپریم کورٹ: فوٹو کریڈٹ، پی ٹی آئی۔

بینچ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ کمپنیوں سے موبائل نمبر اور بینک اکاؤنٹس کو آدھار سے منسلک کرنے سے متعلق آخری تاریخ کے پیغام بھیجے ۔ مرکزی حکومت نے کل سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دیا تھا جس میں موبائل فون ہولڈروں کو اگلے سال 6 فروری تک اپنے نمبر منسلک کرنے کو لازمی قرار دیا تھا ۔حکومت کی دلیل تھی کہ اپنا گراہک جانو تصدیق کے عمل کے تحت تمام موبائل فون نمبروں کو آدھار سے جوڑنا لازمی ہے۔ نیا بینک کھاتہ کھلوانے کے لئے بھی آدھار لازمی کیا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز