باپ۔ بیٹے کے جھگڑے میں امیدواروں کی اٹکی سانس، انتخابی مہم شروع کرنے میں کنفیوژن کے شکار

Jan 07, 2017 05:02 PM IST | Updated on: Jan 07, 2017 05:07 PM IST

لکھنؤ۔  نئے سال کی علی الصبح عروج پر پہنچے باپ بیٹے کے جھگڑے سے اب سب سے زیادہ پریشان دونوں خیموں سے معلنہ امیدوار دکھائی دے رہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو خیمے نے 393 امیدواروں کی فہرست کا اعلان کیا ہے جبکہ اکھلیش خیمے نے بھی تقریبا تین سو امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک سو پچاس سے زائد امیدوار ایسے ہیں جن کا نام دونوں کی فہرست میں ہے۔ جن امیدواروں کا نام دونوں فہرست میں ہے، انہیں تو خاص فرق نہیں پڑا ہے، لیکن جن کا نام کسی ایک میں ہے وہ شکوک شبہ میں ہیں۔ کسی ایک فہرست میں جس کا نام ہے وہ دونوں خیموں میں صلح معاہدے کی جاری کوششوں پر گہری نظر رکھ رہا ہے۔ انہیں اس بات کا خدشہ کہ دونوں خیموں میں ایک ہونے پر وہ شاید ہی امیدوار بن پائیں، اس طرح میں ان کا کیا ہوگا۔ اسی لئے انتخابات کے اعلان کے باوجود زیادہ تر امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا ، ملائم سنگھ یادو خیمے کا اجلاس کل دیر رات تک جاری رہا۔ مسٹر یادو کے ساتھ ملاقات میں شیو پال سنگھ یادو اور امر سنگھ بھی شامل رہے جبکہ اکھلیش یادو نے اپنے خیمے کے لوگوں کو علاقے میں جانے کے لئے کہہ دیا ہے۔ دونوں میں معاہدے کی کوششوں کے درمیان قانونی داؤ پیچ بھی جاری ہے۔ قانونی داؤپیچوں کو بنیاد بنا کر واقف کار دونوں خیموں میں صلح معاہدے کے امکان سے انکار کر رہے ہیں۔ ادھر، اکھلیش خیمے کے دلوير سنگھ، نریش اگروال اور ملائم خیمے سے امر سنگھ کے آئے بيانوں سے بھی لگنے لگا ہے کہ دوریاں اور بڑھیں گی ہی۔ درمیان صلح کی کوشش میں مصروف سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خاں کی کوشش ابھی جاری ہے۔ مسٹر خاں کا کہنا ہے کہ باپ بیٹے کو ملا سکے تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی مانیں گے۔

باپ۔ بیٹے کے جھگڑے میں امیدواروں کی اٹکی سانس، انتخابی مہم شروع کرنے میں کنفیوژن کے شکار

غور طلب ہے کہ سماج وادی پارٹی میں جاری گھمسان ​​کے درمیان یکم جنوری کو اکھلیش خیمے نے جنیشور مشر ا پارک لکھنؤ میں قومی نمائندہ کانفرنس بلا کر وزیر اعلی کو پارٹی کا صدر قرار دیا تھا۔ اسی دن اسی خیمے نے شیو پال سنگھ یادو کو بھی ریاستی صدر سے ہٹا کر نریش اتم کو یہ کرسی سونپ دی تھی۔ نریش اتم نے عہدہ کچھ دیر بعد قبول کر لیا تھا۔ تبھی سے دونوں خیموں میں صلح کی کوشش کے ساتھ ہی قانونی داؤپیچ بھی جاری ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز