بچوں کو گود لینے سے متعلق قوانین پرسختی سے عمل کیا جائے : ریتا بہوگنا جوشی

Jul 26, 2017 04:40 PM IST | Updated on: Jul 26, 2017 04:40 PM IST

لکھنؤ۔  اترپردیش کی خواتین اور خاندانی بہبود کی وزیر پروفیسر ریتا بہوگنا جوشی نے کہا ہے کہ بچوں کو گود لینے سے متعلق بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچہ حاصل ہوتے ہی گود سے متعلق قوانین کے تحت ضروری کارروائی اولین ترجیحی طور سے کی جانی چاہئے جس سے کم از کم وقت میں بچے کو اسے گود لینے والوں کے ماحول میں بھیجا جا سکے۔ محترمہ بہوگنا جوشی نے کہا اس عمل سے منسلک تمام اکائیاں اپنا کام بلا تاخیر کریں۔ یہ معاشرے کی خدمت کا ایسا کام ہے جس میں ایک معصوم زندگی کا تمام مستقبل منسلک ہے۔ ایک بچے کو خاندان سے جوڑ کر صرف سرکاری ذمہ داری ہی نہیں ادا کی جاتی ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ریاستی حکومت بچوں کی حفاظت کے لئے بھی اتنی ہی مصروف عمل ہے جتنی خواتین کے تحفظ کے لئے ہے۔

پروفیسرجوشی کل یہاں منہ بولابیٹا بنانے اور بچوں کو گود لینے سے متعلق یونٹوں کے کاموں کا جائزہ لےرہی تھیں ۔ اجلاس میں اضلاع کے منہ بولابیٹا بنانے سے متعلق اکائیوں میں بچوں کی تعداد، یونٹ کی طرف سے گود دینے کے لئے کی گئی کارروائی اور یونٹ کی جانب سے بچوں کو علاج کی سہولت مہیا کرانے کا جائزہ لیا گیا۔ جائزے کے دوران وزیر نے ہدایت دی کہ ضلع پرویشن افسر (ڈی پی او) ضلع میں اس بات کو نافذ کریں کہ کوئی بھی غیر رجسٹرڈ یونٹ (اکائی) بچہ گود دینے کا کام نہ کرسکے۔ محترمہ جوشي نے کہا کہ اطفال بہبود کمیٹی (سی ڈبلیوسی ) کے نامزد افسر / رکن روٹیشن میں بچہ گھر میں بیٹھیں اور ضلع میں زچگی کے لئے چلائے جارہے نرسنگ ہوم / اسپتالوں سے بھی بچوں کی غیر قانونی طور پر گود دیئے جانے کے عمل کو روک دیں۔ اجلاس میں بنارس کی یونٹ کے خلاف بڑی تعداد میں موصولہ شکایات کے پیش نظر اس یونٹ کی تمام امداد روک کرکے انکوائری کا حکم دیا گیا۔

بچوں کو گود لینے سے متعلق قوانین پرسختی سے عمل کیا جائے : ریتا بہوگنا جوشی

چیف سکریٹری خواتین بہبود محترمہ رینوکا کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی طرف سے وقت وقت پر اضلاع میں منہ بولابیٹا بنانے سے متعلق یونٹس کا معائنہ کیا جائے گا۔ غلط مارکنگ پائے جانے پرمنتظم کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جن این جی او پر سی بی آئی جانچ چل رہی ہے انہیں حکومت کی طرف سے مالی امداد کا فنڈ ریلیز نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ان کی یونٹ کے بچے دوسری اکائیوں میں فوری ٹرانسفر کر دیئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یونٹوں کے بچوں کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں بھیجتے وقت اطفال بہبود کمیٹی کی اجازت ضروری ہے، دوسری صورت میں اسے جرم سمجھا جائے گا۔ بڑھتے ہوئے بچوں کی ہر چھ ماہ میں تصویر لی جائے گی ۔بچوں کا علاج و اس سے منسلک ٹیسٹ ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے ہی کرایا جائے۔ اجلاس میں سنٹرل اڈاپشن یونٹ چیف دیپک کمار نے کہا کہ بچہ حاصل ہوتے ہی 72 گھنٹے کے اندر اس کی تفصیلات یونٹ کی طرف سے اس کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جانا ضروری ہے۔ بچہ گود دینے کے عمل کے لئے ویب سائٹ پر قوانین و ہدایات ہندی اور انگریزی میں دستیاب ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز