ملک میں سڑک حادثات میں چار فیصد کا اضافہ ، مرکزی وزیر نتن گڈکری کا لوک سبھا میں اعتراف

Jul 27, 2017 04:50 PM IST | Updated on: Jul 27, 2017 04:50 PM IST

نئی دہلی: حکومت نے لوک سبھا میں آج کھل کر اعتراف کیا کہ حالیہ برسوں میں ملک میں سالانہ ہونے والے سڑک حادثات میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری نے وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں یہ تسلیم کیا کہ ان کے دور اقتدار میں سڑک حادثات میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو ان کے لئے شرمناک ہے۔انہوں نے کہا، "میرے لئے یہ شرمناک بات ہے کہ میرے دور میں سڑک حادثات میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ ڈیڑھ لاکھ لوگ سڑک حادثات میں اپنی جان گنواتے ہیں۔ "

وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انجو بالا کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے جس میں انہوں نے گاڑی ڈرائیوروں کے ذریعہ موبائل کے استعمال سے ہونے والے حادثات کو روکنے کے لئے حکومت کے ذریعہ کئے گئے اقدامات کے بارے میں معلومات مانگی تھی۔

ملک میں سڑک حادثات میں چار فیصد کا اضافہ ، مرکزی وزیر نتن گڈکری کا لوک سبھا میں اعتراف

علامتی تصویر

مسٹر گڈکری نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ملک میں 30 فیصد لائسنس فرضی ہیں اور موجودہ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کے لئے کوئی ٹھوس سزا کا التزام نہیں ہے لیکن حکومت روڈ سیفٹی کو ترجیح دینے کے لئے موٹر گاڑی قانون میں ترمیم کے لئے بل لائی ہے جسے لوک سبھا سے منظور کیا جا چکا ہے اور اب اسے راجیہ سبھا سے منظور کرانا ہے۔ مسٹر گڈکری نے کہا کہ لوگوں کو روڈ سیفٹی سے بیدارکرنے کے لئے وہ خود بھی اس سے متعلق مہم میں شامل ہوئے ہیں۔ حکومت میڈیا کے ذرائع سے بھی لوگوں میں روڈ سیفٹی کے سلسلہ میں بیداری لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

ملک میں خستہ حال پلوں سے متعلق ایک دیگرسوال کے جواب میں مرکزی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 50۔60 سال میں یہ تک پتہ نہیں چل سکا تھا کہ ملک میں پلوں کی تعداد کتنی ہے اور کتنے پل۔ پلیوں کی حالت خستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ مالی برس میں انڈین برج مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) شروع کیا تھا، جس کے ذریعے قومی ہائی ویز پر واقع پلوں سے متعلق ڈیٹا جمع کیا گیا ہے۔ مسٹر گڈکری نے بتایا کہ ملک کے 147 پلوں کی حالت نہایت خراب ہے۔ ملک میں ایک لاکھ 27 ہزار 288 پلیوں سمیت ایک لاکھ 63 ہزار 202 پل ہیں جن میں سے 23 پل ایک سو سال اور 1628 پل 50 سال سے زیادہ پرانے ہیں۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے پل کارپوریشنوں کے حکام کو آگاہ کیا ہے کہ اگر کسی پل کے گرنے سے کسی بھی شخص کی موت ہوتی ہے تو متعلقہ افسر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت معاملہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی بی ایم ایس کے تحت قومی شاہراہوں کے پلوں سے متعلق ڈیٹا کو ڈیجیٹلائزڈ کیا گیا ہے۔ پلوں کی نگرانی اور معائنہ کے لئے 600 انجینئروں کا تعاون لیا جا رہا ہے۔ اس کے لئے نینو، لیزر اور ڈرون جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز