جموں میں مقیم روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے دستاویزات کی جانچ پڑتال شروع

جموں وکشمیر حکومت نے سرمائی دارالحکومت جموں میں مقیم روہنگیائی رفوجیوں اور بنگلہ دیشی شہریوں کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا ہے

Mar 25, 2017 03:28 PM IST | Updated on: Mar 25, 2017 03:28 PM IST

جموں: جموں وکشمیر حکومت نے سرمائی دارالحکومت جموں میں مقیم روہنگیائی رفوجیوں اور بنگلہ دیشی شہریوں کے پاس موجود دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جموں سمرن دیپ سنگھ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں اطلاعات ملی تھیں کہ ان رفوجیوں میں سے ایک کنبے نے شناختی دستاویزات حاصل کرلئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاملہ کی تحقیقات کی گئی اور اس کی حساسیت کے پیش نظر حقیقت کا پتہ لگانے کے لئے مذکورہ گھر کا دورہ کیا گیا۔

مسٹر سنگھ نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران الزامات کی تصدیق ہوئی جس کی بناء پر ہم نے اپنے ڈیٹا بیس کو اسکین کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اگر مزید کسی مہاجر نے شناختی دستاویز حاصل کیا ہو، اس کا شناختی دستاویز اسکینگ کے ذریعے ڈیٹا بیس سے خارج کیا جائے گا‘۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا ’ہماری ٹیمیں ان تمام لوگوں کے دستاویزات کی اسکینگ کریں گی‘۔ انہوں نے بتایا ’وہ (روہنگیائی رفوجی اور بنگلہ دیشی شہری) مبینہ طور پر مقامی شناخت اور سکونت کے دستاویزات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ان دستاویزات کے ذریعے مختلف خدمات سے فائدہ اٹھارہے ہیں‘۔

جموں میں مقیم روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے دستاویزات کی جانچ پڑتال شروع

مسٹر سنگھ نے مزید بتایا ’شناخت اور سکونت کے دستاویزات کو حذف کرنے کے بعد تمام سروس پرووائڈرس کو اِن کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی‘۔ انہوں نے بتایا کہ 30 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں یہ روہنگیائی رفوجی اور بنگلہ دیشی شہری یا تو کرایہ یا غیرقانونی طور پر رہ رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پنتھرس پارٹی پہلے سے ہی ان رفوجیوں کی موجودگی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ جبکہ بی جے پی نے ان روہنگیائی رفوجیوں اور بنگلہ دیشی شہریوں کو شہر بدر کرنے کے لئے عدالتوں کا سہارا لینے میں بھی مصروف ہے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جموں کے مختلف حصوں میں مقیم بنگلہ دیش اور میانمار کے تارکین وطن کی تعداد 13 ہزار 400 ہے۔ ایڈوکیٹ ہنر گپتا جو کہ بی جے پی کی لیگل سیل کے ممبر بھی ہیں، نے ریاستی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت سے جموں میں مقیم برما کے روہنگیائی تارکین وطن اور بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کرکے انہیں جموں بدر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عرضی گذار نے الزام لگایا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی جموں میں موجودگی سے ریاست میں علیحدگی حامی اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ ہنر گپتا نے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی میں عدالت سے یہ کہتے ہوئے میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کو جموں وکشمیر سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی استدعا کی ہے کہ ریاست یا اقوام متحدہ نے جموں وکشمیر کے کسی بھی جگہ کو رفیوجی کیمپ قرار نہیں دیا ہے۔ انہوں نے عرضی میں میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کو ریاستی خزانے سے فراہم کئے جانے والے فوائد کو روکنے کی عدالت سے ہدایات کی بھی استدعا کی ہے۔ مفاد عامہ کی عرضی میں بنگلہ دیش اور میانمار کے تارکین وطن کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے اچانک اضافے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

مفاد عامہ کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کے تارکین وطن کی موجودگی سے ریاست میں علیحدگی حامی اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔خیال رہے کہ فروری کے اوائل میں جموں شہر میں چند ہورڈنگز نمودار ہوئیں جن کے ذریعے پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو جموں چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔ دریں اثنا جموں میں متحرک تنظیم ’جموں کشمیر فریڈم موومنٹ‘ کا کہنا ہے کہ اگر بے بس اور لاچار برمی مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرکار کوئی کاروائی کرتی ہے تو اس صورت میں پوری ریاست سے غیرریاسی باشندوں کو ریاست سے باہر نکالنے کے لئے باقائد تحریک چلائی جائے گی۔

اس تنظیم کا کہنا ہے ’یہ لوگ تو برمی بدھوں کی زیادتیوں کے شکار ہیں اوردنیا کے مختلف ممالک کی طرح ہندستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ ریاست جموں کشمیر میں بھی عارضی طورپر رہایش کررہے ہیں جو محض ایک انسانی مسئلہ ہے۔اس کے برعکس دیگر غیرریاستی باشندوکا کوئی انسانی مسئلہ نہیں ہیں۔وہ جہاں سے ریاست میں آئے ہیں آرام سے اپنے گھروں کوواپس جاسکتے ہیں‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز