Live Results Assembly Elections 2018

روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کرنے پر مرکزی وزیر نے ورون گاندھی کی حب الوطنی پر کھڑے کر دئیے سوال

ورون گاندھی نے روہنگیا مسلمانوں پر حکومت کی رائے سے الگ کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دی جائے۔

Sep 26, 2017 09:02 PM IST | Updated on: Sep 26, 2017 09:02 PM IST

نئی دہلی۔ اتر پردیش کے سلطان پور سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے ایک بار پھر حکومت کی رائے سے الگ اپنی رائے رکھی ہے۔ 37 سالہ ورون گاندھی نے روہنگیا مسلمانوں پر حکومت کی رائے سے الگ کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دی جائے۔ میانمار میں تشدد سے پریشان ہوکر بنگلہ دیش۔ ہندوستان پہنچ رہے ان روہنگیا مسلمانوں کو حکومت ہند نے خطرہ بتایا ہے اور انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں جاری ایک کیس کی سماعت میں بھی یہ بات صاف کہی ہے کہ یہ لوگ سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے داخلی امور کے وزیر مملکت ہنس راج اهير نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی کی ان کے اس نقطہ نظر کے لئے تنقید کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ سے متعلق جائزہ لینے کے بعد ہندوستان میں پناہ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ قومی مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوں انہیں اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کرنے پر مرکزی وزیر نے ورون گاندھی کی حب الوطنی پر کھڑے کر دئیے سوال

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی: فائل فوٹو۔

Loading...

ورون گاندھی نے ایک ویب سائٹ پر اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو واپس نہیں بھیجنا چاہئے۔ ان کے ساتھ انسانیت جیسا سلوک کیا جانا چاہئے۔ این ڈی ٹی وی سے بات چیت میں ورون گاندھی نے کہا کہ ہر ایک آدمی کی جانچ ہونی چاہئے اور قومی سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔

ورون کے بیان سے ناراض مرکزی وزیر اهير نے کہا، '' جو ملک کے مفاد میں سوچے گا وہ اس طرح کا بیان نہیں دے گا۔ '' ایک ہندی اخبار میں اپنے مضمون میں ورون نے کہا کہ ہندوستان کو روہنگیا کو ضرور پناہ دینا چاہئے لیکن اس سے پہلے حقیقی معنوں میں حفاظتی خدشات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز