روہنگیا پناہ گزینوں کا غیرقانونی طور پر یہاں رہنا سلامتی کے لئے سنگین خطرہ: مودی حکومت

Sep 18, 2017 01:58 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 02:15 PM IST

نئی دہلی ۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے معاملے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں آج ایک حلف نامہ داخل کر کےکہا ہے کہ ان کا غیر قانونی طریقے سے آنا اور رہنا ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ پندرہ صفحات پر مشتمل مرکز کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہے۔ حلف نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ روہنگیا کے پاکستانی دہشت گرد تنظیموں سے منسلک ہونے کی بھی اطلاعات سیکورٹی اداروں نے دی ہیں۔

چیف جسٹس دیپک مشرا نے اس معاملے کی اگلی سماعت تین اكتوبر کو طے کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت قانون کے تحت کام کرے گی۔ جج نے درخواست گزار کے وکلاء فالی ایس نریمن اور کپل سبل سے حکومت کے حلف نامہ کی بنیاد پر ہی بات رکھنے کے لئے کہا ہے۔ حلف نامے میں روہنگیا پناہ گزینوں کو کسی بھی صورت میں ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دینے کی اپیل کرتے ہوئے عدالت سے اس معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

روہنگیا پناہ گزینوں کا غیرقانونی طور پر یہاں رہنا سلامتی کے لئے سنگین خطرہ: مودی حکومت

روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستان میں پناہ دینے کے معاملہ پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔

حلف نامے میں حکومت نے واضح طورپرکہا ہے کہ ایسے روہنگیا پناہ گزین جن کے پاس اقوام متحدہ کے دستاویزات نہیں ہیں، انہیں ہر حال میں ملک سے جانا ہوگا ۔ مرکز نے کہا ہے کہ روہنگیا دہلی، میواڑ، جموں اور حیدرآباد میں قیام پذیر ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز