روہنگیا مہاجرین پر مودی حکومت کا فیصلہ حقوق انسانی کے خلاف: طارق انور

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر طارق انور نے روہنگیا مہاجرین پر مرکزی سرکار کے موقف کی سخت تنقید کرتے ہوئے آج کہا ہے کہ مرکزی سرکار ہر مسئلہ میں جس طرح سے نفرت کی سیاست کررہی ہے وہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔

Sep 23, 2017 02:25 PM IST | Updated on: Sep 23, 2017 02:25 PM IST

نئی دہلی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر طارق انور نے روہنگیا مہاجرین پر مرکزی سرکار کے موقف کی سخت تنقید کرتے ہوئے آج کہا ہے کہ مرکزی سرکار ہر مسئلہ میں جس طرح سے نفرت کی سیاست کررہی ہے وہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ طارق انور نے کہا کہ سرکار اپنے اس قدم کے ذریعہ سے ملک کی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھی رسوائی کرارہی ہے جو ہم ہندوستانیوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ بات ہے اور اپنے اس عمل کے ذریعہ سرکار انسانی حقوق کی کھلے عام پامالی بھی کررہی ہے ۔

مسٹر طارق انور نے کہا کہ حقوق انسانی کمیشن اور انسانی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی آواز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور متحد ہوکر سرکار پر دباؤ بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کے فیصلوں سے باز آئے تاکہ ملک کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر رسوا ہونے سے بچایا جاسکے۔ طارق انور نے کہا کہ نیویارک اعلامیہ برائے مہاجرین و امیگریشن2016میں اقوام متحدہ کے سبھی 193رکن ممالک نے تحریری وعدہ کیا ہے کہ وہ در بدر ہوئے لوگوں کے لئے کشادہ قلبی اور ہمدردی کیساتھ اخوت اور محبت کا مظاہرہ کریں گے۔ طارق انور نے کہا کہ انسانوں کے ساتھ ہمیشہ انسانی بنیادوں پر ہی سلوک ہونا چاہئے نہ کہ ان کے مذہب اور ذات کی بنیاد پر ۔

روہنگیا مہاجرین پر مودی حکومت کا فیصلہ حقوق انسانی کے خلاف: طارق انور

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر طارق انور: فائل فوٹو۔

این سی پی کے لیڈر طار ق انور نے کہا کہ اگر ہماری حکومت کو لگتا ہے کہ یہ لوگ ہماری داخلی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں تو پھر ان ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے بھی سرکار کو رابطہ کرنا چاہئے جنہوں نے اپنے یہاں لاکھوں کی تعداد میں ان مہاجرین کو جگہ دے رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر قانون کا یہ بیان بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ عدلیہ کو سرکار کے کاموں میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے، تو کیا سرکاروں کو بے لگام چھوڑ دیا جائے اور وہ ہر طرح کے آئینی اور غیرآئینی فیصلے کرتی رہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح سے عدالتی نظام پر چوٹ پہنچانے کی کوشش ہوئی تو اسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز