اجودھیا میں رام جنم بھومی پر عالیشان مندر کے ساتھ ہی خوبصورت رام وشود ھرمی مانوتا بھون بنانے کا مطالبہ

Oct 02, 2017 06:16 PM IST | Updated on: Oct 02, 2017 06:16 PM IST

نئی دہلی : ملک کے کچھ دانشوروں نے تجویز پیش کی ہے کہ متنازعہ 2.77 ایکڑ زمین پر ہندوؤں کی خواہشات کے مطابق خوبصورت رام مندر کی تعمیر کے ساتھ ہی حکومت کے تابع 67 ایکڑ کی زمین پر ایک خوبصورت رام وشودھرمي مانوتا بھون کی تعمیر کی جائے جو دہشت گردی، جنگ اور بدامنی سے دوچار دنیا کو امن کا پیغام دے۔ تقریبا 25 سالہ قدیم رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کو عدالت کے باہر باہم مشاورت کے ذریعہ حل تلاش کرنے کے سپریم کورٹ کی تجویز کے مطابق مہاراشٹر کے پونے میں واقع ایم ائی ٹی وشوشانتی یونیورسٹی کے بانی پروفیسر ڈاکٹر وشوناتھ ڈی كراڈ کی قیادت میں ہندو، مسلم، عیسائی، سکھ، پارسی، یہودی وغیرہ فرقوں کے عالم دین اور مفکرین نے یہ تجویز پیش کی ہے۔

ان میں رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ سابق ممبر پارلیمنٹ اور سنت رام ولاس ویدانتی، سابق مرکزی وزیر عارف محمد خان، ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ایس این پٹھان، نالندہ یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر اور پرم سوپركمپيوٹر کے بانی پدم بھوشن ڈاکٹر وجے پی بھٹنكر، جموں کشمیر قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین جہانگیر حسن میر وغیرہ شامل ہیں۔ دارالحکومت کے كانسٹی ٹيوشن کلب میں آج منعقد رام جنم بھومی بابری مسجد مسئلے کا بین مذاہب ڈائیلاگ کے ذریعے قابل قبول حل موضوع پر ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اجودھیا میں رام جنم بھومی پر عالیشان مندر کے ساتھ ہی خوبصورت رام وشود ھرمی مانوتا بھون بنانے کا مطالبہ

ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی نے اس موقع پر کہا کہ آج پوری دنیا تشدد، دہشت گردی، انتہا پسندی کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ امریکہ، شمالی کوریا، شام وغیرہ ممالک میں جنگ کے حالات ہیں، ایسے میں دنیا کے تمام مذاہب کو ماننے والے مل کر وشوشانتی قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا رام نے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد راون کا اختتام کرکے وشوشانتی قائم کی تھی اور آج بھی رام وشوشانتی قائم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ رام وشودھرمي مانوتا بھون کے ذریعے تمام مذاہب کو ساتھ لے کر یہ کام کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر كراڈ نے کہا کہ رام جنم بھومی کا یہ تنازعہ 2.77 ایکڑ زمین کی ملکیت کا ہے جسے الہ آباد ہائی کورٹ نے تینوں فریقوں -رام للا براجمان، نرماهي اکھاڑہ اور سنی وقف بورڈ کو 0.9-0.9 ایکڑ زمین دی ہے۔ اس سے مندر کی تعمیر ممکن نہیں ہو پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پوری 2.77 ایکڑ زمین پر عظیم الشان رام مندر کی تعمیر ہندوؤں کی خواہشات کے مطابق ہو اور اسی زمین کے قریب مرکزی حکومت کے تابع 67 ایکڑ زمین کو رام مندر کمپلیکس سے ملا کر ایک رام وشودھرمي مانوتا بھون بنایا جائے جس میں تمام مذاہب کے لئے عبادت گاہ ہوں تو یہ مقام پورے دنیا کو امن کا حیرت انگیز پیغام دے گا اور اس سے مذاہب کے درمیان ہونے والے تصادم کوبھی ختم کیا جا سکتا ہے نیزمذاہب کی وجہ سے پیداہونے والی دہشت گردی کا بھی خاتمہ ممکن ہوگا۔

پروفیسركراڈ نے کہا کہ ایودھیا کو اس طرح سے سوپراسمارٹ سٹی کے طور پر تیار کیا جائے کہ رام کی نگری ایودھیا دنیا کا بہترین ثقافتی دارالحکومت بن سکے۔ سوامی وویکانند نے 1897 میں کہا تھا کہ 21 ویں صدی ہندوستان کی ہوگی اور ہندوستان دنیا کو علم دے گا اور وشوگرو بنے گا۔ ان کی یہ پیش گوئی اسی طور پر ثابت ہو گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز