ایک دن کی برطانوی ہائی کمشنربنی رودرالی پٹیل، جامعہ ملیہ کی طالبہ رنر اپ

Oct 11, 2017 08:18 PM IST | Updated on: Oct 11, 2017 08:19 PM IST

نئی دہلی۔ ایمیٹی لا اسکول کی طالبہ رودرالی پاٹل کو یہاں ایک دن کے لئے برطانوی ہائی کمیشن میں ’’ہائی کمشنر‘‘ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ یہاں ہائی کمیشن میں اخبار نویسوں سے ایک ملاقات میں ایمیٹی کی اس طالبہ نے بتایا کہ اس نے اس ذمہ داری کے عہدے پر 24 گھنٹے میں یہ محسوس کیا کہ معاشرے کی سوچ بدلی جا سکتی ہے اور تعلیی بیداری اور سائنسی خطوط پر معاشرتی بہبود کے ذریعہ صنفی امتیاز کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

عالمی یوم دختران کے موقع پر برطانوی کمیشن کی طرف سے صنفی مساوات قائم کرنے اور سب کے لئے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں لڑکیوں کی خدمات حاصل کرنے کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش تھی جس میں یہاں 30 سے زیادہ سفارتی اداروں نے حصہ لیا اور صنفی مساوات اور انسانی حقوق کو فروغ دینے کے رخ پر ایک سے زیادہ نوعیت کے پروگرام کئے گئے۔ یوم دختران منانے کے لئے برطانوی کمیشن نے 17 سے 25 برس کی طالبات کے لئے ’’ایک روزہ ہائی کمشنر کی آزمائش‘‘ کا مقابلہ کرایا جس میں ہر امیدوار کو ایک منٹ کا ویڈیو پریزینٹیشن پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس میں شریک مقابلہ لڑکیوں کو مرکزی خیال یہ پیش کرنا تھا کہ لڑکیوں کے حقوق کیا ہیں اور وہ دو ایسی کیا تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ رودرالی نے اس مقابلے میں اول مقام حاصل کیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک طالبہ کو رنر اپ بننے کا موقع ملا۔

ایک دن کی برطانوی ہائی کمشنربنی رودرالی پٹیل، جامعہ ملیہ کی طالبہ رنر اپ

ایمیٹی لا اسکول کی طالبہ رودرالی پاٹل

مجموعی طور پر 45 لڑکیوں نے اپنے ویڈیو جمع کرائے تھے۔ لاتور کی رہنے والی رودرالی نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے پہلے دختر کشی بند کرائی جائے۔ جب لڑکیاں پیدا ہی نہیں ہوں گی تو ہم ان کی بہتری اور ترقی کے بارے میں سوچیں گے کیسے۔ معاشرے کو تعلیمی بیداری کے ذریعہ ہی بدلا جا سکتا ہے ۔ بلوغت کی دہلیز میں قدم رکھنے والی لڑکیوں کی زندگی کے ایام کو کسی روایتی یا فرسودہ نظم کے تحت پاکی اور ناپاکی کے خانے میں بانٹنے کے بجائے ہر تبدیلی کو وقت کی ضرورت مان کر زندگی کی آزمائشوں کا سامنا کیا جائےاور معاشرے کو کسی جمود کے بجائے انسانی بہبود کا متحمل بنایا جائے۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز