شیعہ وقف بورڈ سے ہٹائے گئے 6 اراکین پہنچے ہائی کورٹ ، یوگی حکومت سے جواب طلب

Jun 22, 2017 11:04 PM IST | Updated on: Jun 22, 2017 11:05 PM IST

لکھنو : یوگی حکومت کی طرف سے گزشتہ دنوں شیعہ وقف بورڈ میں بدعنوانی کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ ادھر اس کے بعد حکومت نے بورڈ کے 6 ارکان کو ہٹا دیا تھا ۔ اب ہٹائے گئے اراکین نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ جمعرات کو ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں ہوئی سماعت میں ان اراکین نے اپنا موقف پیش کیا ۔ ہائی کورٹ نے موقف سننے کے بعد یوپی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ معاملہ کی اگلی سماعت 23 جون کو ہوگی۔

ای ٹی وی سے خاص بات چیت میں شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے الزام لگایا کہ ان کو اور دیگر ارکان کو غیر قانونی طریقہ سے ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 مارچ کو حکومت کے چیف سکریٹری نے حکم جاری کیا تھا، جس میں انتظامی امور کے تحت مقرر صدر اور رکن کو ہٹانے کی بات کہی گئی تھی۔

شیعہ وقف بورڈ سے ہٹائے گئے 6 اراکین پہنچے ہائی کورٹ ، یوگی حکومت سے جواب طلب

رضوی نے کہا کہ لیکن شیعہ وقف بورڈ کے ارکان کی تقرری انتظامی امور کے تحت نہیں آتی۔ بورڈ ارکان کی تقرری وقف ایکٹ 1995 کے تحت ہوئی ہے۔ لہذا انہیں اس حکم کے تحت ہٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدلے کے جذبے سے ہٹائے گئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مارچ کے حکم کو 3 ماہ بعد کیوں نافذ کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز