سادھوی کا انکشاف ، رام رحیم کے ڈیرہ میں لڑکیوں کو پلائی جاتی تھی خاص شراب ، گپھا کی سیکورٹی پر تعینات لوگوں کو بنایا جاتھا نامرد

Sep 10, 2017 04:50 PM IST | Updated on: Sep 10, 2017 04:50 PM IST

سرسا : گرمیت رام رحیم کو دو سادھویوں کی عصمت دری کے معاملہ میں 20 سال کی سزا ہوگئی ہے ۔ سال 2002 میں دو سادھویوں نے پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ کو گمنام خط لکھا تھا ، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔ رام رحیم کے ڈیرے میں رہ چکی ایک سادھوی نے نیوز 18 انڈیا سے خاص بات چیت کی ۔ سادھوی نے بتایا کہ اس نے 2002 میں ڈیر چھوڑ دیا ہے۔

سادھوی نے بتایا کہ رام رحیم شام کے وقت سادھوی آواس کی طرف آتا تھا۔ وہاں کئی خواتین کام کرتی تھیں ۔ رام رحیم کو جو سادھوی پسند آتی وہ خاتون اسٹاف سے انہیں بھیجنے کیلئے کہتا ۔ خاتون اسٹاف رات میں اس سادھوی سے کہتی کہ پتا جی نے معاف کرنے کیلئے بلایا ہے ۔ گپھا کے اندر جاتے وقت لڑکیاں بہت خوش ہوتیں کہ پتا جی نے معافی کیلئے بلایا ہے ۔ گپھا میں ایک عالی شان کمرہ تھا ، جہاں رام رحیم لڑکیوں کا استحصال کرتا تھا ، لیکن واپس لوٹنے کے بعد سادھوی خاموش رہنے لگتیں۔

سادھوی کا انکشاف ، رام رحیم کے ڈیرہ میں لڑکیوں کو پلائی جاتی تھی خاص شراب ، گپھا کی سیکورٹی پر تعینات لوگوں کو بنایا جاتھا نامرد

کیسے پتہ چلا معافی کا سچ

ساھودی نے بتایا کہ وہ ڈیرے میں تین سال تک رہی ۔ اس دوران کئی مرتبہ گپھا سے لڑکیوں کے چیخنے کی آواز آتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں سادھویوں کو ایک نشیلا مشروب پلایا جاتا تھا ۔ اس مشروف کو جام کہا جاتا تھا۔ گپھا سے لوٹنے کے بعد زیادہ تر سادھویاں خاموش رہتی ، لیکن ایک دو نے یہ بات بتائی۔ سادھوی نے بتایا کہ پہلے انہیں بھی یقین نہیں ہوا ، لیکن جب گپھا کے اندر گئی تو انہیں بات پتہ چلی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ طبیعت خراب کا بہانہ بناکر وہاں سے آگئی تھی۔

والدین بھی نہیں کرتے تھے یقین

سادھوی نے بتایا کہ جب وہ لوگ اپنے والدین کو اس بارے میں بتاتے تو وہ اس بات پر یقین نہیں کرتے ۔ وہ کہتے کہ پتا جی ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ رام رحیم کے ڈیرے میں تین سال گزارنے والی اس سادھوی کا ماننا ہے کہ اگر دو سادھویوں نے ہمت کرکے وہ خط نہیں لکھا ہوتا تو یہ بات کبھی سامنے ہی نہیں آتی اور ڈیرے میں لڑکیوں کا استحصال جاری رہتا۔

سادھویاں ایک دوسرے سے بات نہ کریں ، اس کا بھی انتظام

ڈیرے میں رہنے والی سادھویاں آپس میں بات نہ کرسکیں اور گپھا کا سچ ایک دوسرے کو نہ بتا سکیں ، اس کیلئے بھی خاص انتظام کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں سخت سیکورٹی ہوتی تھی ، دھمکایا بھی جاتا تھا کہ اس بارے میں کسی کو بتایا تو بھائی ، ماں باپ کا قتل کردیا جائے گا۔

سیکورٹی میں تعینات اہلکاروں کو نامرد بنادیا جاتا تھا

گپھا کی سیکورٹی میں ہتھیار بند لوگوں کو تعینات کیا جاتا تھا۔ سادھوی نے بتایا کہ ہتھیار بند لوگوں کو نامرد بنادیا جاتا تھا۔ ایسا اس لئے کیا جاتا تھا تاکہ سیکورٹی گارڈس اور سادھویوں کے درمیان معاشقہ نہ ہوسکے اور وہ شادی نہ کرسکیں۔

اب تک کیوں رہی خاموش ؟

سال 2002 میں جب دو سادھویوں نے رام رحیم کے خلاف خط لکھا تھا تب سادھوی کے والدین کو ان کی بات پر یقین ہوا اور انہوں نے وہاں سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے میں اب تک خاموشی اختیار کرنے کے سوال پر سادھوی نے کہا کہ اس کی خوشحال فیملی ہے ، وہ اس ڈر میں خاموش رہی کہ بولنے سے اس کے اہل خانہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز