محکمہ آثار قدیمہ نے سہارنپور ضلع جیل کو قومی ورثہ قرار دیا

Oct 27, 2017 01:38 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 01:38 PM IST

سہارنپور: محکمہ آثار قدیمہ نے سہارنپور ضلع جیل کو قومی یادگار قرار دیتے ہوئے اسے خالی کرنے اور عمارت میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کئے جانے پر بھی روک لگا دی ہے۔ سہارنپور ضلع جیل کو 147 سال پہلے 1870 میں انگریزوں نے ضلع جیل کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ محکمہ آثار قدیمہ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روهیلوں کے دورمیں یہ عمارت بادشاہ کا محل ہوا کرتا تھا۔

سہارنپور جیل کے سپرنٹنڈنٹ ويریش راج شرما نے آج یہاں بتایا کہ کار گذار ایڈیشنل آئی جی (جیل) ششی شریواستو نے اس جیل کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جیل کی صلاحیت 530 قیدیوں کی ہے، لیکن اس میں 1690 قیدی رہ رہے ہیں۔ عورتوں اور نالغوں کی جیل بھی اسی روهیلہ محل کا حصہ ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ نے سہارنپور ضلع جیل کو قومی ورثہ قرار دیا

کمشنرچراغ اگروال نے ریاست کے محکمہ داخلہ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ سہارنپور میں اب نئی جیل کی تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے حکومت کی جانب سے زمین کی دستیابی کو یقینی بنائی جائے جس سے جدید سہولیات سے آراستہ جیل کی تعمیر ممکن ہو سکے گا۔ڈی آئی جی جیل ششی شریواستو کے مطابق موجودہ جیل میں بیت الخلا کا فقدان ہے. اس میں ویڈیو کانفرنسنگ اور پی سی او کا بھی انتظام کے لئے عمارت نہیں ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے اس گھر کو قومی ورثہ قرار دئے جانے سے متعلق تختی بھی لگا دی ہے۔

سہارنپور کی تاریخ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ب برطانوی حکومت کے دوران سہارنپور روهیلہ حکومت کے تحت آتا تھا اور جو اب ضلع جیل ہے۔یہ روهیلہ دور کے بادشاہ کا محل ہوا کرتا تھا۔اسے سن 1870 سے ضلع جیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اتنی پرانا عمارت ہونے کی وجہ اس میں بنی بہت سی بیرکوں کی دیواریں انتہائی خستہ حالت میں ہے اور جیل حکام کے گھر کا بھی خستہ حال ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی حالیہ تعمیر یا مرمت پر روک کی وجہ سے جان کا خطرہ اٹھا کر یہاں قیدیوں کو رکھا جا رہا ہے۔مسٹر اگروال نے مکمل رپورٹ تیار کر کےحکومت کو بھیج دی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ابھی کوئی بھی تجویز موصول نہیں ہوا ہے۔ جیل گھر کو کسی بھی نقطہ نظر سے موجودہ حالت میں محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ سہارنپور میں نیا جیل بننے میں کم از کم پانچ سے سات سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں محکمہ آثار قدیمہ کی ہدایات کے مطابق اس عمارت کو محفوظ رکھنا انتہائی مشکل ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز