سہارنپور تشدد : شہر سلگتا رہا ، صرف تاریخیں بدلتی رہیں ...۔

May 25, 2017 10:33 PM IST | Updated on: May 25, 2017 10:33 PM IST

سہارنپور : 5 مئی کو سہارنپور میں مہارانا پرتاپ کی جینتی کے دن شروع ہوا تنازع تاریخ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مزید بھیانک رخ لیتا چلا گیا۔ مجسمے پر چادر پوشی اور ڈی جے بجانے کو لے کر شروع ہوا تنازع نسلی تشدد میں تبدیل ہو گیا۔

اس تشدد میں پورا ضلع سلگ اٹھا اور سیاسی جماعتوں کو سیاسی روٹیاں سینکنے کا بھی موقع مل گیا۔ حکومت نے افسروں کے تبادلے کردئے ، لیکن سہارنپور کے حالت نہیں بدلے۔ بس بدلی تو صرف تشدد کی تاریخیں ۔

سہارنپور تشدد : شہر سلگتا رہا ، صرف تاریخیں بدلتی رہیں ...۔

سہارنپور تشدد: کب کب کیا ہوا؟

پانچ مئی: تشدد کا آغاز ضلع کے شبيرپور گاؤں میں مہارانا پرتاپ کی مورتی پر چادر پوشی کرنے جا رہے راجپوتوں اور دلتوں کے درمیان جھڑپ سے ہوا۔ اس تشدد میں راجپوت کے ایک نوجوان سمت کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد ٹھاکروں نے بدلہ لینے کے لئے 60 دلتوں کے گھر نذر آتش کردئے ۔ اس معاملہ میں پولیس نے مقدمہ درج کرکے 17 افراد کو گرفتار کیا۔

نو مئی: بھیم آرمی کی قیادت میں متاثرہ دلتوں نے معاوضہ کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا ، جس کے دوران پھر تشدد بھڑک اٹھا۔ شرپسندوں نے کئی مقامات پر آگ زنی کی۔ دو پولیس چوکیوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں 24 مقدمے درج کر کے 30 افراد کو گرفتار کیا کیا۔

اکیس مئی: بڑی تعداد میں دلتوں نے دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج کیا۔

تئیس مئی: مایاوتی کے دورہ سے قبل شبيرپور میں آتش زنی اور پتھراؤ کے بعد کئی مقامات پر جم کر تشدد ہوا۔

تئیس مئی: مایاوتی کی ریلی سے واپس آ رہے لوگوں پر نامعلوم افراد نے حملہ کردیا ، جس میں ایک کی موت ہوگئی اور 10 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ اس سلسلہ میں 25 افراد گرفتار کئے گئے۔

چوبیس مئی : نامعلوم حملہ آور ٹھاکر کمیونٹی کے ایک شخص کو گولی مار کر فرار ہوگئے۔ اس کے بعد ایس ایس پی اور ڈی ایم کو معطل کر دیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز