وزیر اعظم مودی کے بیان پر ساکشی مہاراج کا ردعمل، کہا، قبرستان بننا ہی نہیں چاہیے

Feb 28, 2017 01:39 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 01:40 PM IST

نئی دہلی۔ متنازعہ بیانات کے لئے مشہور بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج بھی قبرستان اور شمشان تنازعہ میں کود پڑے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے قبرستان اور شمشان پر دئیے گئے اس بیان پر اختلاف ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے قبرستان اور شمشان دونوں بنانے کی بات کہی تھی۔ ساکشی مہاراج نے کہا کہ میں وزیر اعظم کی بات سے متفق نہیں ہوں۔ میں اسے قطعی قبول نہیں کرتا کہ قبرستان اور شمشان برابر میں بننا چاہئے۔ قبرستان بننا ہی نہیں چاہیے، اگر قبرستانوں میں ہندوستان کی ساری کی ساری زمین چلی جائے گی تو کھیتی اور کھلیان کہاں ہوں گے؟

بی جے پی ممبر پارلیمنٹ نے ایک ہی جگہ پر شمسان اور قبرستان بنانے کی تجویز دی اور اس کے لئے قانون بنانے کا بھی مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاستداں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کو کہیں اور تو اکٹھا نہیں ہونے دیتے، کم سے کم شمشان میں تو اکٹھا ہونے دیں۔ خیال رہے کہ ہندو تو شبیہ والے ساکشی مہاراج نے پہلے بھی کئی متنازعہ بیان دیئے ہیں۔ 6 جنوری کو انہوں نے کہا تھا کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس وجہ سے ملک کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، لیکن ہندو اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس کے لئے وہ ذمہ دار ہیں، جو چار بیویاں اور 40 بچے کی بات کرتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کے بیان پر ساکشی مہاراج کا ردعمل، کہا، قبرستان بننا ہی نہیں چاہیے

غور طلب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فتح پور میں ایک ریلی میں کہا تھا کہ اگر کسی گاؤں کو قبرستان کی تعمیر کے لئے فنڈ ملتا ہے، تو اس گاؤں کو شمشان کی زمین کے لئے بھی فنڈ ملنا چاہئے۔ اگر آپ عید میں بجلی کی فراہمی بلا ناغہ کرتے ہیں، تو آپ کو دیوالی میں بھی بجلی کی فراہمی بلا ناغہ کرنی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز